صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوان صدر میں ملاقات ہوئی۔ اجلاس میں ملک کی سیاسی اور سیکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس 13 اکتوبر کو بلانے پر اتفاق ہوا۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے آپشنز زیر غور
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق مختلف آئینی آپشنز پر مشاورت جاری ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے پر اتفاق ہوگیا ہے اور فیصلہ کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔
تاہم، ایوان صدر کے جاری کردہ اعلامیے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق کسی حتمی فیصلے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان متوقع ملاقات میں بھی اس معاملے پر مشاورت ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد حتمی فیصلے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کی سمری صدر مملکت کو بھجوائی جاسکتی ہے۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح 9 بج کر 30 منٹ پر طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورت حال اور مختلف آئینی آپشنز پر غور متوقع ہے۔
اس سے قبل ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کو بھی اس حوالے سے پیغام پہنچایا گیا ہے۔
مجوزہ منصوبے میں سابق فاٹا کے ضم شدہ آٹھ اضلاع اور دیگر چار اضلاع شامل ہیں۔
ضم شدہ اضلاع میں خیبر، کرم، اورکزئی، باجوڑ، مہمند، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور زیریں وزیرستان شامل ہیں۔ دیگر اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت کے نام لیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض اہم اختیارات وفاق کے استعمال میں دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ تاہم، ان تجاویز یا کسی حتمی فیصلے کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ملاقات میں شریک حکام
وزیراعظم کی معاونت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر احد چیمہ نے کی۔
صدر مملکت کی معاونت سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے کی۔

