وزیر داخلہ و قانون سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ضلع ملیر میں زیر تعمیر سندھ فرانزک سائنس لیبارٹری کا دورہ کیا۔
لیبارٹری بن قاسم کے علاقے دیہہ جوریجی میں 30 ایکڑ پر تعمیر کی جارہی ہے۔
وزیر داخلہ کو منصوبے کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ عمارت کی تعمیر 85 فیصد مکمل ہوچکی ہے۔
منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
لیبارٹری میں 14 فرانزک شعبے قائم ہوں گے
بریفنگ کے مطابق نئی لیبارٹری میں 14 فرانزک شعبے قائم کیے جائیں گے۔
ان میں ڈیجیٹل فرانزک، ڈی این اے اور سیرولوجی شامل ہیں۔
فائر آرمز، ٹول مارکس اور ٹریس کیمسٹری بھی لیبارٹری کا حصہ ہوں گے۔
ٹاکسیکولوجی، کمپیوٹر فرانزک اور فنگر پرنٹس کے شعبے بھی قائم کیے جائیں گے۔
لیبارٹری میں آڈیو ویژول تجزیے کی سہولت بھی ہوگی۔
منشیات اور جائے وقوعہ کے تجزیے کے لیے بھی شعبے قائم کیے جائیں گے۔
جائے موت کے فرانزک تجزیے کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔
جدید ڈیجیٹل سہولیات یقینی بنانے کی ہدایت
ضیاء الحسن لنجار نے لیبارٹری کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے تمام ضروری ڈیجیٹل سہولیات یقینی بنانے پر زور دیا۔
وزیر داخلہ نے تعمیراتی کام جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ جدید فرانزک سہولیات فوجداری نظام انصاف کو مؤثر بنائیں گی۔
ان کے مطابق فرانزک نظام استغاثہ کے عمل کو بھی مضبوط کرے گا۔
دوسرے مرحلے میں ڈیجیٹلائزیشن ہوگی
وزیر داخلہ کو بتایا گیا کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں ڈیجیٹلائزیشن مکمل کی جائے گی۔
اس مرحلے میں فرانزک نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے مزید مربوط کیا جائے گا۔
دورے کے موقع پر اعلیٰ پولیس اور انتظامی افسران بھی موجود تھے۔
ان میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور آئی جی سندھ شامل تھے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی کرائم برانچ اور ڈی آئی جی ایسٹ بھی موجود تھے۔

