Site icon Tashakur News

سندھ فلڈ ریزیلینس پروجیکٹ ورلڈ بینک سے 350 ملین ڈالر کی معاونت کی تجویز

Sindh flood resilience project meeting with World Bank officials

Sindh government seeks World Bank support for flood resilience project

سندھ حکومت نے مالی سال 2027 کے لیے سندھ فلڈ ریزیلینس پروجیکٹ کی تجویز پیش کردی۔

حکومت نے منصوبے کے لیے ورلڈ بینک سے 350 ملین امریکی ڈالر کی مالی معاونت مانگی ہے۔

مجوزہ منصوبے کا مقصد سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں کو سیلاب اور موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔

ورلڈ بینک وفد سے اہم اجلاس

سندھ حکومت اور ورلڈ بینک کے وفد کے درمیان ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس ہوا۔

اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر آبپاشی، منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو نے کی۔

ورلڈ بینک کے وفد میں لیڈ اربن اسپیشلسٹ سلیم روحانہ بھی شریک ہوئے۔

ٹاسک ٹیم لیڈر و ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ اسپیشلسٹ بلال خالد اور امپارو سیمپر ہیرالڈو نے بھی شرکت کی۔

چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجم شاہ، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور دیگر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔

2022 کے سیلاب سے 1 کروڑ 46 لاکھ افراد متاثر

جام خان شورو نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب سے سندھ میں 1 کروڑ 46 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔

سیلاب سے مالی اور بنیادی ڈھانچے کو مجموعی طور پر 9 ارب 10 کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچا۔

صوبے میں 17 لاکھ 10 ہزار مکانات متاثر یا تباہ ہوئے۔

وزیر آبپاشی کے مطابق دریائے سندھ کے دائیں کنارے کے 7 اضلاع کو بھی سیلاب کا خطرہ ہے۔

ان اضلاع میں سالانہ 1 ارب 11 کروڑ ڈالر کے معاشی نقصانات کا خطرہ موجود ہے۔

ان علاقوں میں تقریباً 22 لاکھ 30 ہزار افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔

سڑکوں اور حفاظتی بندوں کی بحالی

اجلاس کو بتایا گیا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں میں 1 ارب 60 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت متحرک کی جاچکی ہے۔

ان منصوبوں کے تحت 848 کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی بحالی مکمل ہوئی ہے۔

حفاظتی بندوں کی بحالی کا 205 کلومیٹر کام بھی مکمل کیا جاچکا ہے۔

سندھ میں 9 لاکھ سے زائد گھروں کی تعمیر و مرمت بھی کی گئی ہے۔

صوبے کے 14 اضلاع میں ریسکیو 1122 کے 26 جدید اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔

منصوبے کی منظوری کا ٹائم فریم

حکام کے مطابق منصوبے کی سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی سے کلیئرنس 30 اکتوبر تک متوقع ہے۔

سندھ فلڈ ریزیلینس پروجیکٹ کے پی سی ون کی منظوری دسمبر 2026 تک متوقع ہے۔

ورلڈ بینک کے بورڈ سے حتمی منظوری مارچ 2027 تک ملنے کی توقع ہے۔

دیہی علاقوں کے لیے فلڈ ریزیلینس

اجلاس میں منصوبے کے پہلے حصے، بیسن لیول فلڈ ریزیلینس، پر بریفنگ دی گئی۔

جام خان شورو کے مطابق اس حصے کا مقصد دریائے سندھ کے دائیں کنارے کے علاقوں کو سیلاب سے محفوظ بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے تحفظ کے اقدامات کی نشاندہی ایشین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے تحقیقی جائزے میں کی گئی ہے۔

شہری علاقوں میں موسمیاتی تحفظ

اجلاس میں منصوبے کے دوسرے حصے، اربن ریزیلینس، پر بھی بریفنگ دی گئی۔

اس حصے کا مقصد سندھ کے ثانوی شہروں کو سیلاب اور شدید گرمی سے محفوظ بنانا ہے۔

منصوبے میں آبادی کی حساسیت اور شہری سہولیات کی کمی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔

شہری ڈرینیج، سڑکوں، گلیوں اور عوامی مقامات کی بہتری کے لیے سرمایہ کاری زیر غور ہے۔

شہری علاقوں میں ماحول دوست گرین سلوشنز کے لیے بھی تجاویز کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی

جام خان شورو نے کہا کہ دیہی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا سندھ حکومت کی ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار شہری منصوبہ بندی اور مؤثر ڈرینیج ضروری ہے۔

وزیر آبپاشی کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی موسمیاتی خطرات سے نمٹنے میں مدد دے گا۔

Exit mobile version