Site icon Tashakur News

میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کے پولیس تفتیش پر سخت سوالات

Judicial commission reviewing police investigation in the Mir Raza case in Karachi

Judicial commission reviews investigation into the Mir Raza case in Karachi.

کراچی: میر رضا کی موت کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے پولیس تفتیش میں سامنے آنے والی مختلف خامیوں پر سخت سوالات اٹھا دیے۔

سربراہ کمیشن جسٹس عمر سیال کی زیر صدارت سماعت میں سی پی ایل سی نمائندہ کاشف اور تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری کو طلب کیا گیا۔ کمیشن نے سی سی ٹی وی فوٹیجز، جیو فینسنگ، مشکوک گاڑیوں، گواہوں کے بیانات اور دیگر شواہد کی تحقیقات سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔

سی پی ایل سی سے جیو فینسنگ پر سوالات

سی پی ایل سی نمائندہ کاشف نے بتایا کہ ادارے کو میر رضا کا کیس لاپتا شخص کے طور پر موصول ہوا تھا۔ سی پی ایل سی نے پولیس اور شکایت کنندہ کے ساتھ مل کر کیس پر کام کیا۔

انہوں نے بتایا کہ 28 اور 29 جولائی کو جیو فینسنگ شروع کی گئی۔ میر رضا کے فون سے 28 جولائی کی رات 4 بج کر 22 منٹ تک ایس ایم ایس موصول ہوئے، جبکہ آؤٹ گوئنگ کال کا ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

کاشف کے مطابق رات 4 بج کر 7 منٹ پر آن لائن ٹیکسی ڈرائیور سے رابطہ ہوا تھا۔ انٹرنیٹ کالنگ کا ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔

انہوں نے بتایا کہ جیو فینسنگ میں کوئی مشکوک سرگرمی سامنے نہیں آئی۔ سی پی ایل سی نے جیو فینسنگ اور کال ڈیٹا ریکارڈ کا بھی تجزیہ کیا۔

کاشف کے مطابق میر رضا کا انٹرنیٹ 4 بج کر 25 منٹ تک فعال تھا۔ فون پر 4 بج کر 10 سے 4 بج کر 20 منٹ کے درمیان ایپل میپس استعمال ہونے کی سرگرمی ریکارڈ ہوئی، تاہم اس کا مواد دستیاب نہیں تھا۔

سی سی ٹی وی فوٹیجز اور مشکوک گاڑیوں کا معاملہ

سی پی ایل سی نمائندے نے بتایا کہ گلستان جوہر بلاک ون سے چار تک ادارے کے 46 کیمرے موجود ہیں۔ میر رضا صرف تین کیمروں میں نظر آئے، جبکہ جائے وقوعہ کا علاقہ سی پی ایل سی کیمروں کی مکمل کوریج سے باہر تھا۔

کاشف نے بتایا کہ ذاتی طور پر بھی مختلف کیمروں کی فوٹیجز دیکھی گئیں، تاہم زیادہ تر ریکارڈ محفوظ نہیں تھا یا اس کا معیار شواہد کے لیے کافی نہیں تھا۔

کمیشن نے مشکوک گاڑیوں کے حوالے سے بھی سوالات کیے۔ کاشف نے بتایا کہ ٹریکر اور جیو فینسنگ کی معلومات کی مدد سے گاڑیوں کی شناخت کی کوشش کی گئی، تاہم کیمروں کی فوٹیجز میں نمبر واضح نہیں ہوسکے۔

کمیشن نے مسجد خضرا کے کیمروں سے متعلق بھی سوالات کیے۔ بتایا گیا کہ مسجد کے کیمرہ سسٹم میں تقریباً پانچ گھنٹے کی فوٹیج دستیاب نہیں تھی۔ کاشف کے مطابق وہاں پرانا کیمرا سسٹم نصب ہے۔

تفتیشی افسر سے گواہوں کے بیانات پر سوالات

سی پی ایل سی کے بعد تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری کو بھی طلب کیا گیا۔

کمیشن نے سوال کیا کہ 13 اگست کو تفتیش سنبھالنے کے وقت کیا انہیں علم تھا کہ سابق تفتیشی افسر نے گواہوں کے دفعہ 161 کے بیانات مکمل طور پر ریکارڈ نہیں کیے تھے۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ بعض گواہوں نے سابقہ بیانات کے متن سے لاعلمی ظاہر کی۔ کمیشن کے مطابق گواہوں کے بیانات میں بعض اہم پہلوؤں کے بجائے رقم کے لین دین پر زیادہ توجہ دی گئی۔

سراج لاشاری نے کہا کہ پولیس نے مختلف پہلوؤں پر سوالات کیے اور قتل کی تفتیش کی جارہی تھی۔

علی شاز کے کردار پر بھی سوالات

کمیشن نے گواہ علی شاز کے کردار سے متعلق بھی تفتیشی افسر سے سخت سوالات کیے۔

جسٹس عمر سیال نے بیرون ملک سفر، خاندان کے افراد کی نقل و حرکت اور مشکوک گاڑیوں سے متعلق ممکنہ روابط کی تحقیقات پر وضاحت طلب کی۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ تحقیقات میں علی شاز کا واقعے سے کوئی براہ راست تعلق سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق سیف سٹی کیمروں اور جیو فینسنگ سے بھی کوئی لنک نہیں ملا۔

کمیشن نے سوال کیا کہ علی شاز اور دیگر متعلقہ افراد کے روابط اور وائس نوٹ سے متعلق تمام پہلوؤں کی مکمل تحقیقات کی گئی ہیں یا نہیں۔

یلو لائن بی آر ٹی پر دن رات کام جاری رکھنے کی ہدایت، شرجیل میمن

کرائم سین اور پولیس تفتیش پر اعتراضات

کمیشن نے کرائم سین کی حفاظت اور شواہد جمع کرنے کے طریقہ کار پر بھی سخت ریمارکس دیے۔

ڈی ایس پی سراج لاشاری نے بتایا کہ ان سے پہلے تفتیشی ٹیم نے تقریباً 60 مقامات کی فوٹیجز دیکھنے سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔

کمیشن نے سوال کیا کہ مخصوص فوٹیجز کی بنیاد پر تحقیقات کیسے مکمل ہوسکتی ہیں۔ کمیشن نے موبائل فون سے ریکارڈ کرکے بھیجی گئی ویڈیوز اور گیسٹ ہاؤس کے ڈی وی آر کی حفاظت سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ اگر شواہد محفوظ رکھنے کے طریقہ کار پر عمل نہیں ہوا تو ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

ایپل واچ اور موبائل فون کی فرانزک رپورٹ

سماعت کے دوران ایپل واچ اور موبائل فون سے متعلق فرانزک شواہد بھی زیر بحث آئے۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ میر رضا کی ایپل واچ کی آخری سرگرمی 4 بج کر 22 منٹ پر ریکارڈ ہوئی۔ ان کے مطابق موبائل فون سے ڈیٹا ریکور نہیں ہوسکا اور ایپل کو مزید معلومات کے لیے خط لکھا گیا ہے۔

کمیشن نے سوال کیا کہ ایپل واچ کی فرانزک رپورٹ اس کے سامنے کیوں پیش نہیں کی گئی۔

میر رضا کی والدہ مریم نے بتایا کہ فون کھولنے کی متعدد کوششوں کے دوران ڈیوائس بلاک ہوگئی تھی۔

نجی چیٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا معاملہ

کمیشن نے میر رضا کی منگیتر کی نجی چیٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے معاملے پر بھی سوالات کیے۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ پولیس نے منگیتر کا فون حاصل کیا تھا اور اس سے نجی چیٹ نکالی گئی۔

کمیشن نے سوال کیا کہ نجی گفتگو میڈیا تک کیسے پہنچی۔ جسٹس عمر سیال نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ اگر نجی چیٹ لیک ہونے کے ذمہ دار افراد سامنے آئیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مشکوک گاڑی اور اینستھیسیا کے معاملے کی تحقیقات

کمیشن نے میر رضا کے گھر کے باہر نظر آنے والی مشکوک گاڑی کی تحقیقات پر بھی سوالات کیے۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ گاڑی کے مالک سے رابطہ کیا گیا۔ مالک نے بتایا کہ پارکنگ نہ ملنے کے باعث گاڑی وہاں کھڑی کی گئی تھی۔

کمیشن نے فوٹیج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گاڑی پارک ہونے کے بجائے میر رضا کی گاڑی کے پیچھے تیزی سے جاتی دکھائی دیتی ہے۔

میر رضا کے جسم سے ملنے والے اینستھیسیا سے متعلق بھی سوالات کیے گئے۔ کمیشن نے ہدایت کی کہ متعلقہ گواہوں اور ڈینٹسٹری سے ممکنہ روابط کے پہلو کی مزید تحقیقات کی جائیں۔

کرپٹو اکاؤنٹس کی تحقیقات پر بھی سوالات

جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کے کرپٹو اکاؤنٹس سے متعلق پولیس کی تحقیقات پر بھی سوالات اٹھائے۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ تقریباً 9 کروڑ روپے کی تین اکاؤنٹس کے ساتھ ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں اور مزید تفصیلات کے لیے این سی سی آئی اے کو خط لکھا گیا ہے۔

جبران ناصر نے بتایا کہ بینک اکاؤنٹس کے جائزے سے تین افراد کی نشاندہی ہوئی ہے اور کرپٹو اکاؤنٹس سے متعلق ادائیگیاں بھی میر رضا کے بینک اکاؤنٹ میں موصول ہوئی تھیں۔

کمیشن نے یہ معلومات پولیس کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

تفتیشی افسر کے مطابق کرپٹو اکاؤنٹ کے جائزے میں تقریباً 3 کروڑ روپے کی کمی سامنے آئی۔ متعلقہ پلیٹ فارم کے مطابق یہ رقم اکاؤنٹ میں واپس نہیں آئی، جبکہ پولیس اسے ممکنہ نقصان قرار دے رہی ہے۔

کمیشن نے پرافٹ اینڈ لاس لیجر حاصل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اصل نقصان کی صورتحال واضح ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر اسامہ اور میڈیکل بورڈ پر بھی سوالات

کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو دوبارہ طلب کرنے کی وجوہات پر بھی سوالات کیے۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ ایک آڈیو سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر اسامہ کو دوبارہ بلایا گیا تھا۔ کمیشن نے سوال کیا کہ آڈیو میں موجود دیگر متعلقہ افراد سے بھی تفتیش کیوں نہیں کی گئی۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر اسامہ کی رائے کو غیر معمولی اہمیت دی گئی، جبکہ دیگر طبی ماہرین کی رپورٹس بھی موجود تھیں۔

سراج لاشاری نے بتایا کہ مختلف طبی رپورٹس میں ابہام کے باعث سپر میڈیکل بورڈ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

کمیشن نے سپر میڈیکل بورڈ کی پیش رفت کے بارے میں سوال کیا تو بتایا گیا کہ ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

پولیس افسران کے خلاف کارروائی پر سوال

کمیشن نے کہا کہ تحقیقات میں بے ضابطگیاں سامنے آنے کے باوجود پولیس افسران کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ ابتدائی طور پر غفلت کے ذمہ دار بعض افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔

کمیشن نے ایس ایچ او عدیل افضال کے کردار پر بھی سوال اٹھایا اور شواہد کے تحفظ سے متعلق مبینہ کوتاہیوں کا ذکر کیا۔

کمیشن نے کہا کہ صرف چھوٹے افسران کے خلاف کارروائی کافی نہیں، ذمہ داری کا تعین اعلیٰ سطح تک ہونا چاہیے۔

کمیشن کی کارروائی مکمل

کمیشن نے کہا کہ اس نے اہل خانہ کے سوالات کے جوابات حاصل کرنے اور مختلف شواہد کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن نے اہل خانہ کو کارروائی کے دوران سوالات کرنے کا موقع دیا۔

کمیشن نے سندھ حکومت کی فوکل پرسن اور عملے کے لیے دو اضافی تنخواہوں کی سفارش بھی کردی۔

میر رضا کیس کی موجودہ سماعت مکمل ہوگئی۔ کمیشن آئندہ مرحلے میں اپنی رپورٹ اور سفارشات پیش کرے گا۔

Exit mobile version