کراچی: میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ہوا۔
کارروائی کے دوران ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار کی جانب سے سوالناموں کے جوابات کمیشن میں جمع کرادیے گئے۔
کمیشن کے معاون تجمل لودھی ایڈووکیٹ نے پولیس افسران کے جوابات سیل لفافے میں جمع کرائے۔ میر رضا کے اہلخانہ نے بھی پولیس افسران سے متعلق سوالات کمیشن کو فراہم کیے تھے۔
گلستان جوہر کے رہائشی گواہ کا بیان
کمیشن نے گلستان جوہر کے رہائشی گواہ محمد ریاض کا بیان بھی ریکارڈ کیا۔
محمد ریاض نے بتایا کہ وہ ایک گھر میں چوکیداری کرتا ہے۔ اس کے مطابق 29 تاریخ کی رات تقریباً 3 بج کر 24 سے 28 منٹ کے درمیان وہ چھت پر موجود تھا۔
گواہ نے کمیشن کو بتایا کہ اس نے وہاں ایک سفید آلٹو اور ایک سفید ایگزیو گاڑی دیکھی تھیں۔
اس کے مطابق ایک شخص نے گاڑی اوپر لے جانے کی کوشش کے دوران گالی دی اور کہا کہ گاڑی اوپر نہیں چڑھ رہی۔ گواہ نے کہا کہ اس نے اس سے پہلے دونوں گاڑیاں وہاں نہیں دیکھی تھیں۔
مشکوک گاڑیوں اور سی سی ٹی وی پر بریفنگ
کمیشن نے صحافیوں بابر سلیم اور صولت جعفری کو بھی بریفنگ کے لیے طلب کیا۔
صحافیوں نے کمیشن کو سی سی ٹی وی فوٹیجز کی بنیاد پر بتایا کہ بظاہر ایک گاڑی گلستان جوہر سے میر رضا کی گاڑی کا پیچھا کرتی دکھائی دیتی ہے۔
ان کے مطابق مذکورہ گاڑی بعد میں گیسٹ ہاؤس کے باہر بھی نظر آئی۔ بریفنگ میں 28 اور 29 جولائی کو علاقے میں نظر آنے والی ایک مشکوک آلٹو گاڑی کا بھی ذکر کیا گیا۔
کمیشن کے سامنے گاڑیوں اور ایک موٹر سائیکل کی نقل و حرکت سے متعلق بھی معلومات پیش کی گئیں۔
پولیس تفتیش پر سوالات
وکیل جبران ناصر نے پولیس کی تفتیش اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کے حصول سے متعلق سوالات اٹھائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے بروقت سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل نہیں کیں، جبکہ صحافیوں نے بعض فوٹیجز حاصل کیں۔
جبران ناصر نے پولیس پر کیس کی تفتیش میں غفلت اور مبینہ خامیوں کے الزامات بھی عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میر رضا کی موت کے معاملے کو خودکشی کا رخ دینے کی کوشش کی گئی۔
یہ الزامات زیر تفتیش معاملے کا حصہ ہیں اور ان پر پولیس کا مؤقف بھی اہم ہوگا۔
بولٹن مارکیٹ اور کھوری گارڈن میں تجاوزات کے خلاف آپریشن، 5 گرفتار
کرپٹو ٹریڈنگ سے متعلق معلومات
کمیشن کے سامنے میر رضا کی کرپٹو ٹریڈنگ سے متعلق معلومات بھی پیش کی گئیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ میر رضا نے گزشتہ عرصے کے دوران کرپٹو ٹریڈنگ میں سرگرمی دکھائی۔ وکیل جبران ناصر کے مطابق میر رضا نے آخری تین ماہ کے دوران کرپٹو میں تقریباً 90 لاکھ روپے لگائے۔
انہوں نے کہا کہ این سی سی آئی اے فیصل آباد کی جانب سے میر رضا کو مبینہ فراڈ ٹرانزیکشن کے معاملے میں طلب کیے جانے کی معلومات بھی سامنے آئی ہیں۔
کمیشن کے سامنے یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا کہ کرپٹو ٹریڈنگ سے متعلق بعض معلومات پولیس اور خاندان تک پہنچنے کے معاملے کی وضاحت ضروری ہے۔
کمیشن کی کارروائی جاری
کارروائی کے دوران کمیشن نے سی سی ٹی وی فوٹیجز، مشکوک گاڑیوں اور تفتیش کے مختلف پہلوؤں سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا۔
جبران ناصر نے کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس کی تفتیش پر تحفظات کا اظہار کیا اور کیس میں مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
میر رضا کے اہلخانہ کی جانب سے پولیس کی تفتیش پر اٹھائے گئے سوالات اور دیگر شواہد کا جائزہ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کا حصہ ہیں۔

