اسلام آباد: حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔ مذاکرات میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کی گئی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے بانی پی ٹی آئی سے اپوزیشن کے ایک نمائندے کی ملاقات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اپوزیشن نے ملاقات کے لیے ایک رہنما کا نام بھی تجویز کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 3 ایم پی او کے تحت گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی پر بھی بات ہوئی۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی رہائی کا معاملہ بھی مذاکرات میں زیر بحث آیا۔
مذاکرات میں عارضی ڈیڈ لاک
مذاکرات کے دوران اپوزیشن کے اندر بھی اختلاف سامنے آیا۔ ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی نے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سے رابطہ کیا۔
محمود خان اچکزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر کوئی حتمی اعلان یا فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ملاقات کے بعد ہی حتمی جواب دیا جائے۔
ذرائع کے مطابق اچکزئی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بھیجنے کی تجویز بھی دی۔
24 نیوز کے مطابق مذاکرات کے دوران اپوزیشن کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کو معاہدے سے قبل اہم شرط کے طور پر پیش کیا گیا۔
محسن نقوی کی وزیراعظم سے ملاقات
مذاکرات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی وزیراعظم ہاؤس گئے اور وزیراعظم شہباز شریف کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق محسن نقوی نے وزیراعظم سے موجودہ سیاسی صورتحال اور اپوزیشن سے مذاکرات پر گفتگو کی۔
بعد ازاں مذاکرات کا عمل دوبارہ جاری رہا۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے مذاکرات کے آغاز پر امید ظاہر کی کہ تمام فریق خوشگوار ماحول میں بات چیت آگے بڑھائیں گے۔ سرکاری ریڈیو کے مطابق حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندے دوسرے دور میں شریک تھے۔
مذاکرات میں کون شریک ہوا؟
حکومت کی جانب سے امیر مقام، محسن نقوی، طلال چوہدری، رانا ثنا اللہ اور طارق فضل چوہدری شریک ہوئے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی نے شرکت کی۔
اپوزیشن وفد میں بیرسٹر گوہر علی خان، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر، حلیم عادل شیخ اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس شامل تھے۔
مذاکرات کا حتمی نتیجہ سامنے آنے تک فریقین کی جانب سے باضابطہ تفصیلات محدود رکھی گئی ہیں۔ ڈان کے مطابق دوسرا دور چار گھنٹے سے زائد جاری رہا اور اس کے اختتام پر باضابطہ اعلان کا انتظار تھا۔

