آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی زیر صدارت سندھ پولیس کی ایمرجنسی سروسز سے متعلق اجلاس ہوا۔
اجلاس میں صوبے کی مختلف ایمرجنسی سروسز کے موجودہ نظام کا جائزہ لیا گیا۔ انہیں ایک مرکزی اور مربوط نظام سے منسلک کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
مددگار 15 کو مرکزی نظام سے جوڑنے کی تجویز
سینٹرل پولیس آفس کراچی میں ہونے والے اجلاس میں ڈی آئی جیز، سندھ پولیس ہائی وے پٹرول، ہیڈکوارٹرز، آئی ٹی، سیف سٹیز اتھارٹی، ٹی اینڈ ٹی، ایس ایس یو اور مددگار 15 کے افسران شریک ہوئے۔
پی ڈی آئی ٹی نے سندھ پولیس کی مختلف ایمرجنسی سروسز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں موجودہ ڈھانچے، طریقہ کار، رسپانس اور کارکردگی کا جائزہ پیش کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں مختلف ہنگامی صورتحال کے لیے متعدد ایمرجنسی نمبرز اور سرکاری ادارے کام کررہے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق ان سروسز کو مربوط نظام میں شامل کرنے سے شہریوں کو بہتر سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔
مددگار 15 کو پورے سندھ کے لیے جدید ایمرجنسی رسپانس نظام سے منسلک کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔
مجوزہ نظام کے تحت شہریوں کی کالز فوری طور پر متعلقہ ضلعی پولیس اور دیگر ایمرجنسی اداروں کو منتقل کی جاسکیں گی۔
ایمرجنسی کالز کا ڈیجیٹل ریکارڈ ہوگا
مجوزہ نظام میں ایمرجنسی کال موصول ہونے سے کارروائی مکمل ہونے تک پورے عمل کا ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ ہوگا۔
اس نظام سے ہنگامی صورتحال کی نگرانی اور کارروائی کی پیش رفت کا جائزہ لینے میں مدد مل سکے گی۔
آئی جی سندھ نے مرکزی ایمرجنسی سروسز کے قیام کے لیے کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی۔
کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی آپریشنز کریں گے۔
کمیٹی صوبے میں موجود تمام ایمرجنسی سروسز اور ان کے نظام کا جائزہ لے گی۔ اس کے بعد جامع رپورٹ پیش کی جائے گی۔
رپورٹ میں مجوزہ نظام کی تشکیل، انضمام، قابل عمل ہونے اور متوقع اخراجات سمیت دیگر امور شامل ہوں گے۔
مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام سے رابطہ
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ مرکزی نظام سے شہریوں کو تیز رفتار اور مربوط ایمرجنسی خدمات فراہم کی جاسکیں گی۔
ان کے مطابق ایمرجنسی سروسز کا ڈیٹا مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام سے منسلک ہوگا۔
اس سے ہنگامی صورتحال کی نگرانی اور فوری فیصلہ سازی میں مدد ملے گی۔
انہوں نے مجوزہ نظام کے لیے مطلوبہ افرادی قوت، جدید ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کا تعین کرنے کی بھی ہدایت کی۔
مرکزی نظام سے مختلف سرکاری اداروں کے درمیان فوری رابطہ ممکن ہوگا۔
شہری، دیہی علاقوں اور شاہراہوں پر ایمرجنسی کالز کے رسپانس کی نگرانی بھی مؤثر بنائی جاسکے گی۔

