ڈی جی آئی ایس پی آر نے 30 ستمبر 2026 کو فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی کی طالبات اور فیکلٹی سے خصوصی انٹرایکشن کیا۔
سیشن کے دوران براہِ راست سوال و جواب کا سلسلہ ہوا۔ اس سے مختلف ابہامات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد ملی۔
طالبات کو قومی امور سے متعلق حقائق جاننے اور سوالات کرنے کا موقع بھی ملا۔
تعلیم اور عملی آگاہی کی اہمیت
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ مرزا نے کہا کہ ایک خاتون کو تعلیم دینا دراصل ایک نسل کو تعلیم دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف نصابی معلومات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ طالبات کی تربیت بھی ضروری ہے۔
ان کے مطابق طالبات کو زمینی حقائق سے روشناس کرانا بھی اہم ہے۔
مس انفارمیشن کے خلاف براہِ راست مکالمہ
فیکلٹی نے براہِ راست مکالمے کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کا مقابلہ ضروری ہے۔
فیکلٹی نے کہا کہ ایسے انٹرایکشن سے حقائق تک رسائی بہتر ہوتی ہے۔ مختلف نقطۂ نظر کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
AI مواد کی تصدیق پر زور
طالبات نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد بھی غلط معلومات پھیلا سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ معلومات کو مستند ذرائع سے ویریفائی کیا جائے۔ تصدیق کے بغیر کسی معلومات کو آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔
انفارمیشن وارفیئر اور تنقیدی سوچ
فیکلٹی نے کہا کہ انفارمیشن وارفیئر کا مقابلہ تنقیدی سوچ سے کیا جا سکتا ہے۔
فیکٹ چیکنگ اور مستند معلومات کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
فیکلٹی نے اکیڈیمیا اور قومی اداروں کے درمیان براہِ راست روابط کو اہم قرار دیا۔
طالبات کا انٹرایکٹو سیشنز جاری رکھنے پر زور
طالبات نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ سوال و جواب سے قومی اور سکیورٹی امور کو نئے زاویے سے سمجھنے کا موقع ملا۔
انہوں نے ایسے انٹرایکٹو سیشنز کے سلسلے کو جاری رکھنے پر زور دیا۔

