کراچی کے صنعتی علاقے کے 19 اداروں نے طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔
درخواست کی سماعت جسٹس یوسف علی سعید نے کی۔ عدالت نے کے الیکٹرک، نیپرا اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔
عدالت نے فریقین سے 19 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا۔
نیپرا میں شکایت زیر التوا
سماعت کے دوران جسٹس یوسف علی سعید نے استفسار کیا کہ نیپرا نے درخواست گزاروں کی شکایت پر کیا فیصلہ کیا۔
درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر راجا نوید نے بتایا کہ نیپرا نے شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان کے مطابق درخواست تاحال زیر التوا ہے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک کے سفروں انجینئرنگ فیڈر پر روزانہ 10 سے 12 گھنٹے غیر اعلانیہ بجلی بند کی جارہی ہے۔
ان کے مطابق بجلی کی بندش سے صنعتی سرگرمیاں، پیداوار اور کاروبار متاثر ہورہے ہیں۔
12 سے 16 گھنٹے بجلی بند رکھنے کا دعویٰ
درخواست میں کہا گیا کہ بعض اوقات بجلی کی بندش 12 سے 16 گھنٹے یومیہ تک پہنچ جاتی ہے۔
درخواست گزاروں کے مطابق صنعتی علاقے کو پانچ روز مسلسل بلیک آؤٹ کا بھی سامنا رہا۔ اس کے بعد تقریباً 72 گھنٹے بجلی بند رہی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ غیرقانونی سرگرمیوں کا بوجھ قانونی صنعتی صارفین پر نہیں ڈالا جاسکتا۔
انٹرپشن لاگز اور لوڈ ڈیٹا کی جانچ کی استدعا
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ کے الیکٹرک کو قانونی صنعتی اور کاروباری کنکشنز کی بجلی بحال رکھنے کا حکم دیا جائے۔
انہوں نے نیپرا کو فیڈر کے انٹرپشن لاگز، میٹر ریکارڈ اور لوڈ ڈیٹا کی آزادانہ جانچ کا حکم دینے کی بھی درخواست کی۔
درخواست میں نیپرا حکام کو صنعتوں کی زیر التوا شکایت پر فیصلہ جاری کرنے کی ہدایت کی استدعا بھی کی گئی۔

