Site icon Tashakur News

کراچی طلبہ سے امتیازی سلوک کا الزام، منعم ظفر کا ایم ڈی کیٹ نظام کی نگرانی کا مطالبہ

Munim Zafar Khan speaking at a press conference about MDCAT concerns in Karachi

Munim Zafar Khan addresses a press conference on MDCAT concerns

جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے سندھ کے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) میں کراچی کے طلبہ سے امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا ہے۔

ادارہ نور حق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی کے طلبہ کو تعلیمی امتحانات میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کے پورے نظام کی نگرانی کرے۔

ایم ڈی کیٹ کے امتحانی مراکز پر اعتراض

منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی کے تقریباً 11 ہزار امیدواروں کے لیے صرف دو امتحانی مراکز قائم کیے گئے۔

دستیاب معلومات کے مطابق کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی اور ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں مراکز قائم تھے۔ این ای ڈی میں 6 ہزار جبکہ اوجھا کیمپس میں 4,964 امیدواروں کے لیے انتظام کیا گیا تھا۔

منعم ظفر نے سوال اٹھایا کہ کراچی میں ضلعی سطح پر مزید امتحانی مراکز کیوں قائم نہیں کیے گئے۔

ان کے مطابق طلبہ کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

نتائج پر سوالات اٹھانے کا دعویٰ

جماعت اسلامی کراچی کے امیر نے ایم ڈی کیٹ نتائج پر بھی سوالات اٹھائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اندرون سندھ کے بعض اضلاع کے طلبہ کی کامیابی کا تناسب کراچی کے طلبہ سے زیادہ رہا۔

حالیہ رپورٹ کے مطابق ایم ڈی کیٹ کے ٹاپ 20 امیدواروں میں کراچی کا کوئی طالب علم شامل نہیں تھا۔ تھرپارکر کے پانچ طلبہ ٹاپ 20 میں شامل ہوئے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ طلبہ کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے بقول اس صورتحال سے بعض طلبہ تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔

ٹیسٹنگ نظام پر بھی تنقید

منعم ظفر خان نے سندھ کے تعلیمی نظام پر بھی تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے میٹرک اور انٹر بورڈز کے بعد مختلف ٹیسٹنگ اتھارٹیز قائم کی ہیں۔

ان کے بقول پہلے میرٹ کی بنیاد پر داخلے ہوتے تھے۔ اب ٹیسٹنگ اتھارٹیز کے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تھرپارکر کے طلبہ نے ایم ڈی کیٹ میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔

این ای ڈی ٹیسٹ کا حوالہ

منعم ظفر خان نے این ای ڈی یونیورسٹی کے ٹیسٹ کے اعداد و شمار کا بھی حوالہ دیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اندرون سندھ کے طلبہ میں کامیابی کا تناسب تقریباً 24 سے 26 فیصد رہا۔

ان کے مطابق کراچی بورڈ کے طلبہ کا کامیابی کا تناسب تقریباً 66 فیصد رہا۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم سب کے لیے یکساں مواقع کے ساتھ ہونی چاہیے۔

منعم ظفر خان نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ کراچی کے طلبہ کے تحفظات دور کیے جائیں اور داخلہ ٹیسٹ کے نظام کو شفاف بنایا جائے۔

Exit mobile version