وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی کی زیر صدارت ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کے عہدیداران کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں صنعتی شعبے کو درپیش مسائل اور موجودہ معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ایمپلائرز فیڈریشن اور مختلف صنعتی ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے اپنے مسائل صوبائی وزیر کے سامنے رکھے۔
صنعتی شعبے کے مسائل پر گفتگو
صنعتی نمائندوں نے کراچی میں صنعتوں کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
انہوں نے عالمی سطح پر برآمدات بڑھانے کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں کم از کم اجرت، سیسی کنٹری بیوشن اور صنعتی انسپیکشن سے متعلق مسائل بھی زیر بحث آئے۔
صنعتوں کو سہولتیں دینے کا عزم
سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت صنعتوں کے فروغ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹی اور متوسط صنعتوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت انہیں سہولتیں فراہم کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔
صوبائی وزیر کے مطابق مزدوروں، آجروں اور سرکاری افسران کے درمیان رابطہ مضبوط کرنا بھی ضروری ہے۔
لیبر کوڈ پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت
سعید غنی نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے لیبر کوڈ کے نفاذ سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے۔
ان کے مطابق مشاورت کا مقصد صنعتکاروں اور مزدوروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتوں کی پیداوار بڑھے اور مزدوروں کا معیار زندگی بہتر ہو، یہی بنیادی مقصد ہے۔
مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت
صوبائی وزیر نے کہا کہ صنعتی نمائندوں کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔
انہوں نے سیکرٹری محنت، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ، کمشنر سیسی اور ڈی جی لیبر کو ہدایات جاری کردیں۔
سعید غنی کے مطابق متعلقہ افسران صنعتکاروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کرکے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کریں گے۔

