وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے اہم علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے عالمی امن اور ترقی میں اقوام متحدہ کے کردار کو اہم قرار دیا۔
اقوام متحدہ کے کردار پر پاکستان کا مؤقف
وزیراعظم نے کثیرالجہتی نظام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں سے وابستگی بھی واضح کی۔
شہباز شریف نے انتونیو گوتریس کی قیادت کو سراہا۔ انہوں نے انسانی بہبود کے لیے ان کے کردار کی بھی تعریف کی۔
مشرق وسطیٰ اور فلسطین پر گفتگو
دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی بات کی۔ وزیراعظم نے کشیدگی کے خاتمے کے لیے مکالمے اور سفارت کاری پر زور دیا۔
انہوں نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت بھی دہرائی۔
شہباز شریف نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں پاکستان کا مؤقف واضح کیا۔
اسلاموفوبیا اور افغانستان کی صورتحال
وزیراعظم نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس رجحان کی روک تھام کے لیے عالمی اقدامات پر زور دیا۔
ملاقات میں افغانستان کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ دونوں رہنماؤں نے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی میں اضافے پر گفتگو کی۔
گوتریس کی پاکستان کے کردار کی تعریف
انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے عالمی امن اور سلامتی کے لیے پاکستان کی خدمات کی تعریف کی۔
سیکرٹری جنرل نے تنازعات کے پرامن حل میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔
انتونیو گوتریس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

