Site icon Tashakur News

ڈرون دراندازی: پاکستان کا افغان سرزمین میں 10 مقامات پر حملوں کا دعویٰ

Pakistan air defense response following reported drone infiltration from Afghanistan.

Pakistan conducts air and drone strikes in Afghanistan after reported drone infiltration.

اسلام آباد: پاکستان نے افغان سرزمین سے آنے والے ڈرونز کی مبینہ دراندازی کی مذمت کی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اسے ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔

عطاء اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ افغان سرزمین سے ڈرونز کی دراندازی دانستہ اور غیرقانونی کارروائی تھی۔ ان کے مطابق اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔

پاکستانی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے تمام درانداز ڈرونز کا سراغ لگایا۔ انہیں اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔

افغانستان میں 10 مقامات پر حملوں کا دعویٰ

پاکستانی مؤقف کے مطابق ڈرون دراندازی کے بعد افغانستان میں کارروائی کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ فضائی اور ڈرون حملے 10 مقامات پر کیے گئے۔

حکام کے مطابق یہ مقامات ڈرونز کے لانچنگ اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ کارروائی میں صرف ان فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ حملوں سے براہ راست منسلک تھے۔

پاکستانی حکام نے ان حملوں کو دانستہ، درست اور متناسب قرار دیا ہے۔

Thursday, 24th September 2026

ایک روز قبل 8 ڈرونز مار گرائے گئے

پاکستان کے مطابق 23 ستمبر کو بھی 8 ڈرونز پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔ فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز مار گرائے۔

حکام کے مطابق 4 ڈرونز طورخم کے قریب جبکہ 4 کوہاٹ سے متصل پہاڑی علاقوں میں گرائے گئے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت کو افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے متعلق کئی برس سے آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔

سرحدی کشیدگی پر پاکستان کا مؤقف

پاکستانی مؤقف کے مطابق افغان سرزمین سے ہونے والی کسی بھی دشمن کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے کہا ہے کہ ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی کا جواب دیا جائے گا۔

پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف دشمن سرگرمیاں بند کرے۔ حکومت نے افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔

پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا۔ اسلام آباد نے مذاکرات اور تعمیری رابطے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

Exit mobile version