اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کے الیکٹرک کے طرزِ عمل پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بجلی صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔
علی خورشیدی نے الزام عائد کیا کہ عام صارفین کو آئی بی سی میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے بزنس سینٹر کے ماحول کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کے الیکٹرک عام صارفین کو تنگ کرے گی تو عوام بھی خاموش نہیں رہے گی۔ انہوں نے کمپنی کے علاقائی جنرل منیجرز کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔
علی خورشیدی نے سوال کیا کہ کے الیکٹرک کے افسران میڈیا کے کیمروں سے کیوں گھبراتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ اجلاس کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کے سامنے کیا جائے گا۔
اپوزیشن لیڈر نے کمپنی کی انتظامیہ سے سوال کیا کہ کے الیکٹرک کے سی ای او کہاں ہیں اور وہ کب واپس آئیں گے۔
انہوں نے اجلاس میں موجود حکام کے اختیارات پر بھی سوال اٹھایا۔ علی خورشیدی نے پوچھا کہ کیا اجلاس میں موجود حکام کو سی ای او کے برابر اختیارات حاصل ہیں۔
یہ الزامات اور سوالات علی خورشیدی کی جانب سے بیان کیے گئے ہیں۔ کے الیکٹرک کا مؤقف اس بیان میں شامل نہیں ہے۔

