بزنس مین الائنس کے چیئرمین آصف سخی نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی چیمبر پر تاجر برادری کا اعتماد صرف ایک فیصد رہ گیا ہے۔ انہوں نے گل پلازہ کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی میں کراچی چیمبر کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آصف سخی نے کہا کہ گل پلازہ کے کرایہ داروں کو معاوضہ مل گیا۔ تاہم، ان کے مطابق دکانوں کے مالکان کو تاحال کوئی رقم نہیں ملی۔
کراچی چیمبر پر پالیسی سے اختلاف
آصف سخی نے کہا کہ گزشتہ 26 سال سے بزنس مین گروپ کراچی چیمبر میں موجود ہے۔ ان کے مطابق شہر کے کاروباری حالات تشویشناک ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کاروبار کراچی سے پنجاب منتقل ہو رہے ہیں۔ دوسرے شہروں کے چیمبرز میں تاجر برادری کو زیادہ خوشحال دیکھنے کو ملتی ہے۔
آصف سخی نے کہا کہ کراچی چیمبر کی موجودہ صورتحال پر تاجر برادری کو تشویش ہے۔ ان کے مطابق ان کا کسی فرد سے ذاتی اختلاف نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اختلاف کراچی چیمبر کی پالیسیوں سے ہے۔
انتخابات اور چیمبر کی کارکردگی پر سوالات
آصف سخی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات قواعد کے مطابق نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے کراچی چیمبر میں ٹیموں کی تشکیل پر بھی سوال اٹھایا۔
ان کے مطابق ہر سال لسانی بنیادوں پر ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں۔ آصف سخی نے کہا کہ تاجر برادری کو ایسے طریقہ کار سے مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے بزنس مین گروپ کی طویل عرصے سے چیمبر میں موجودگی کا حوالہ بھی دیا۔
زبیر موتی والا سے مسائل حل کرنے کی اپیل
آصف سخی نے کراچی چیمبر کے رہنما زبیر موتی والا سے تاجروں کے بنیادی مسائل حل کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی کاروباری سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق تاجر برادری کو درپیش مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
آصف سخی نے یہ گفتگو کراچی چیمبر کے 26 ستمبر کو ہونے والے انتخابات کے تناظر میں کی۔
ان کے بیان میں کراچی چیمبر اور گل پلازہ کے معاوضوں سے متعلق کیے گئے دعووں کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے۔

