کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر اظہار خیال کیا ہے۔
پریس کانفرنس میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئے صوبے بننے سے قتل و غارت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر فسادات یا ہنگامے ہونے ہوتے تو اب تک ہوچکے ہوتے۔
پیپلز پارٹی پر سیاسی تقسیم کا الزام
مصطفیٰ کمال نے پیپلز پارٹی پر لوگوں کو تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کرپشن پر سوال اٹھنے کے بعد صوبائی کارڈ استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق اس طرح عوام کی توجہ دوسرے معاملات کی طرف منتقل کی جاتی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھی عوام ان کے بھائی ہیں۔
انہوں نے سندھ کے مختلف علاقوں میں غربت کی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔
صوبوں کے احتساب کا مطالبہ
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ دھرنوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کو زیادہ آزادی دینے کا ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کے احتساب کا نظام بھی ہونا چاہیے۔
نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا معاملہ حالیہ ہفتوں میں سیاسی بحث کا موضوع رہا ہے۔
سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم یا نئی انتظامی اکائیوں سے متعلق تجاویز کے خلاف قرارداد بھی منظور کی ہے۔

