جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم اور سندھ لوکل گورنمنٹ بل 2026 کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ بل 2026 کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بلدیاتی اداروں کو حقیقی اختیارات دینے کے بجائے صوبائی حکومت کے اختیارات برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
سندھ اسمبلی نے 15 ستمبر کو یہ ترمیمی بل اپوزیشن کے احتجاج کے دوران اکثریتی ووٹ سے منظور کیا تھا۔ بل میں منتخب میئرز اور چیئرمینز کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام جاری رکھنے کی شق بھی شامل ہے۔
اختیارات کی منتقلی کا مطالبہ
منعم ظفر خان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت بلدیاتی اداروں کو انتظامی، سیاسی اور مالی اختیارات ملنے چاہئیں۔
ان کے مطابق سندھ حکومت اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کو تیار نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی نے اختیارات اور وسائل اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ سندھ حکومت کو بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں اختیارات کی تقسیم نہ ہونے سے انتظامی یونٹس سے متعلق بحث بڑھ رہی ہے۔
کراچی کے اداروں سے اختیارات واپس لینے کا الزام
منعم ظفر خان نے دعویٰ کیا کہ کراچی کے کئی اداروں کے اختیارات صوبائی حکومت نے اپنے پاس منتقل کرلیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹیشن کا اختیار کے ایم سی سے لے کر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو دیا گیا۔
ان کے مطابق کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تبدیل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے بلدیاتی اداروں کے اختیارات محدود ہوئے۔
منعم ظفر خان نے کراچی ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی میں تبدیل کرنے پر بھی اعتراض کیا۔
پی ایف سی اور وسائل کی تقسیم پر اعتراض
منعم ظفر خان نے کہا کہ سندھ حکومت 17، 18 سال سے صوبائی فنانس کمیشن تشکیل دینے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلدیاتی اداروں کے لیے مختص بجٹ میں بھی کمی ہوئی ہے۔
ان کے مطابق اٹھارویں ترمیم سے قبل بلدیات کا بجٹ 16 فیصد تھا۔ یہ شرح اب 5.2 فیصد رہ گئی ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وسائل شہروں اور ڈویژنز تک منتقل کیے جائیں۔
ریڈ لائن منصوبے پر بھی تنقید
منعم ظفر خان نے ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ منصوبہ چھ سال سے مکمل نہیں ہوسکا۔
ان کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے لیے بار بار نئی تاریخیں دی جارہی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 31 اگست کے بعد 15 ستمبر کی تاریخ دی گئی۔ تاہم 15 ستمبر بھی گزر گئی۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ ریڈ لائن کی تعمیر سے یونیورسٹی روڈ متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کے باعث لاکھوں شہری مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر
منعم ظفر خان نے کہا کہ سندھ حکومت کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کردی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر آئینی اور قانونی فورم پر معاملہ اٹھائے گی۔
ان کے مطابق کراچی کے بلدیاتی اختیارات اور وسائل پر صوبائی حکومت کا کنٹرول قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کراچی کے شہریوں کو پانی، بجلی، انفراسٹرکچر، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ شہریوں کو ان کا حق اور انصاف ملنا چاہیے۔

