وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت انسدادِ پولیو ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا۔
اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا۔
مراد علی شاہ نے سندھ کو پولیو فری بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے پولیو کے مکمل خاتمے تک سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے ویکسینیشن اور نگرانی مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کمیونٹی انگیجمنٹ مضبوط بنانے کی بھی ہدایت کی۔
21 سے 27 ستمبر تک پولیو مہم
اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ میں سات روزہ مہم ہوگی۔
یہ مہم 21 سے 27 ستمبر تک جاری رہے گی۔
مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ویکسین دی جائے گی۔
سندھ کے 30 اضلاع میں مہم چلائی جائے گی۔
صوبے میں تقریباً ایک کروڑ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
مہم میں 80 ہزار سے زائد فرنٹ لائن ورکرز حصہ لیں گے۔
مہم کی سکیورٹی کے لیے 26 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہوں گے۔
حکام نے ویکسین، لاجسٹکس اور نگرانی کے انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
رہ جانے والے بچوں پر خصوصی توجہ
مراد علی شاہ نے نقل مکانی کرنے والی آبادیوں تک رسائی یقینی بنانے پر زور دیا۔
گزشتہ مہمات میں رہ جانے والے بچوں کو بھی ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی۔
جولائی کی مہم میں ایک لاکھ 46 ہزار 149 بچے رہ گئے تھے۔
خصوصی فالو اَپ مہم کے دوران 23 ہزار 500 سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے پسماندہ علاقوں میں نگرانی بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
ہائی رسک علاقوں میں ویکسینیشن مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا۔
سندھ میں پولیو کیسز میں کمی
اجلاس کو سندھ میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی سے آگاہ کیا گیا۔
2024 میں سندھ میں 23 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
یہ تعداد 2025 میں کم ہوکر 9 رہ گئی۔
2026 میں اب تک سندھ میں ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔
تاہم ایک کیس بھی تشویش کا باعث ہے۔
سندھ میں مثبت ماحولیاتی نگرانی کے مقامات بھی کم ہوئے ہیں۔
ان کی تعداد 29 سے کم ہوکر 5 رہ گئی ہے۔
کراچی کے 15 میں سے 6 مقامات پر وائرس کی موجودگی برقرار ہے۔
دیگر شہروں کے تمام 14 نگرانی کے مقامات منفی ہیں۔
پاکستان میں 2026 کے چار پولیو کیسز
پاکستان میں 2026 کے دوران اب تک چار پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ان میں تین کیسز خیبر پختونخوا سے ہیں۔
ایک کیس سندھ کے ضلع سجاول سے رپورٹ ہوا تھا۔
تازہ ترین کیس خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے سامنے آیا۔
پولیو پروگرام کے مطابق ستمبر کی مہم ملک کے 115 اضلاع میں ہوگی۔
اس دوران پانچ سال سے کم عمر 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین دی جائے گی۔
مہم افغانستان میں جاری ویکسینیشن سرگرمیوں کے ساتھ بھی مربوط ہوگی۔
اس اقدام کا مقصد سرحد پار وائرس کی منتقلی روکنا ہے۔
والدین سے بچوں کو قطرے پلانے کی اپیل
مراد علی شاہ نے والدین سے تعاون کی اپیل کی۔
انہوں نے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے پلانے پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلے ویکسین لینے والے بچوں کو بھی دوبارہ قطرے پلائیں۔
ان کے مطابق پولیو سے بچاؤ کے لیے بار بار خوراک ضروری ہے۔
مراد علی شاہ نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کو متحرک رہنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ کوئی علاقہ اور کوئی بچہ نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔

