گندم کی فراہمی بہتر بنانے اور آٹے کی قیمتیں کم کرنے کے لیے سندھ حکومت نے اہم فیصلے کرلیے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یکم اکتوبر سے فلور ملز کو سرکاری گندم جاری کرنے کی ہدایت کردی۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں گندم سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح صارفین کو سستا اور وافر آٹا فراہم کرنا ہے۔
یکم اکتوبر سے سرکاری گندم کا اجرا
وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ خوراک کو یکم اکتوبر سے فلور ملز کو گندم کی فراہمی شروع کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ گندم کی سپلائی بڑھائی جائے۔ اس اقدام سے سندھ بھر میں آٹے کی قیمتیں کم کرنے میں مدد ملنی چاہیے۔
مراد علی شاہ نے گندم کے اجرا کا نظام شفاف اور مؤثر بنانے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق سرکاری گندم کا فائدہ صارفین کو کم قیمت آٹے کی صورت میں ملنا چاہیے۔
2 لاکھ 26 ہزار ٹن سے زائد گندم ضبط
اجلاس میں حکام نے بتایا کہ سندھ بھر میں 2 لاکھ 26 ہزار 918 میٹرک ٹن گندم ضبط کی گئی ہے۔
بریفنگ کے مطابق 57 ہزار 122 میٹرک ٹن گندم فلور ملز میں موجود ہے۔ تاجروں اور ذخیرہ اندوزوں سے ایک لاکھ 69 ہزار 796 میٹرک ٹن گندم ضبط کی گئی۔
حکام کے مطابق 25 ہزار 365 میٹرک ٹن گندم عدالتی مقدمات کے باعث زیر التوا ہے۔
ایک لاکھ 44 ہزار 431 میٹرک ٹن گندم اٹھانے کے لیے دستیاب ہے۔ اس میں سے 59 ہزار 223 میٹرک ٹن گندم خریداری اور ذخیرہ مراکز منتقل کی جاچکی ہے۔
مزید 85 ہزار 208 میٹرک ٹن گندم کی منتقلی باقی ہے۔ ضبط شدہ گندم کے عوض اب تک 2 ارب 85 کروڑ 50 لاکھ روپے ادا کیے جاچکے ہیں۔
ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کی ہدایت
مراد علی شاہ نے قانونی طور پر دستیاب تمام گندم فوری سرکاری تحویل میں لینے کی ہدایت کی۔
انہوں نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گندم کے سرکاری ذخائر مارکیٹ میں مداخلت اور قیمتوں کے استحکام کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
انہوں نے آٹے اور گندم کی قیمتوں پر مسلسل نظر رکھنے کی بھی ہدایت کی۔ ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی اور صارفین کو ریلیف دینا حکومت کی ترجیح قرار دی گئی۔
پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار ٹن تک گندم خریدنے کا منصوبہ
سندھ حکومت پاسکو سے ایک لاکھ 90 ہزار سے 2 لاکھ 23 ہزار 455 میٹرک ٹن گندم خریدے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے خریداری کو فیئر ایوریج کوالٹی گندم کی دستیابی سے مشروط کیا۔ انہوں نے خریداری میں شفافیت اور مؤثریت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
محکمہ خوراک کے مطابق گندم کی نقل و حمل کا ٹینڈر 22 ستمبر کو کھولا جائے گا۔ باردانے اور دیگر لاجسٹک ضروریات کی خریداری کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔
3 لاکھ ٹن درآمدی گندم کا ٹینڈر
اجلاس میں وفاقی حکومت کے گندم درآمد کرنے کے منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔
حکام نے بتایا کہ ٹی سی پی نے 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کے لیے ٹینڈر جاری کردیا ہے۔ ٹینڈر 16 ستمبر کو کھولا جائے گا۔
مراد علی شاہ نے درآمدی گندم کے عمل اور اخراجات کی کڑی نگرانی کی ہدایت کی۔ انہوں نے بولیاں کھلنے کے فوراً بعد گندم کی درآمدی لاگت کی تفصیلات طلب کرلیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضرورت کے مطابق درآمدی گندم مقامی ذخائر بڑھانے کے لیے استعمال کی جائے۔ مارکیٹ میں گندم کی بلاتعطل فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔
کراچی میں 96 فلور ملز فعال
اجلاس میں کراچی کی فلور ملز کی گندم پیسنے کی صلاحیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
بریفنگ کے مطابق کراچی میں 101 رجسٹرڈ فلور ملز ہیں۔ ان میں 96 فعال اور 5 غیر فعال ہیں۔
ان ملز کی مجموعی گندم پیسنے کی صلاحیت 4 لاکھ 24 ہزار 473 میٹرک ٹن ہے۔ ملیر اور شرقی اضلاع میں فلور ملز کی پیسنے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہے۔
مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ گندم کے اجرا کے بعد آٹے کی پیداوار میں تعطل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے محکمہ خوراک کو فلور ملز مالکان سے قریبی رابطہ رکھنے کا حکم دیا۔
سندھ میں 3 لاکھ ٹن سے زائد گندم کا اسٹاک
حکام کے مطابق سندھ بھر میں گندم کے مجموعی دستیاب ذخائر 3 لاکھ 3 ہزار 829 میٹرک ٹن ہیں۔
ان ذخائر میں بچا ہوا اسٹاک، موجودہ خریداری اور منتقل شدہ ضبط شدہ گندم شامل ہے۔
کراچی میں ایک لاکھ 19 ہزار 534 میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔ لاڑکانہ میں 61 ہزار 871 میٹرک ٹن جبکہ حیدرآباد میں 54 ہزار 559 میٹرک ٹن گندم دستیاب ہے۔
کراچی کے لیے پاسکو سے ایک لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن گندم مختص کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کراچی کے لیے 3 لاکھ میٹرک ٹن درآمدی گندم مختص کرنے کا منصوبہ ہے۔
حیدرآباد، شہید بینظیرآباد اور میرپورخاص ڈویژنز کے لیے بھی پاسکو گندم مختص ہوگی۔
آٹے کی قیمتوں میں استحکام پر توجہ
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ غذائی تحفظ اور عوام کو ریلیف حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔
انہوں نے سندھ بھر میں گندم کے وافر ذخائر یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ان کے مطابق صارفین کو سستے داموں آٹا فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
مراد علی شاہ نے ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور فلور ملز کے درمیان رابطہ مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔ گندم کے ذخائر، اجرا اور تقسیم کی جامع نگرانی جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آٹے کی قیمتوں میں استحکام کے لیے حکومت کے فعال اقدامات جاری رہیں گے۔

