پاکستان رینجرز سندھ اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) سندھ نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کراچی کے علاقے گلبائی شیر شاہ میں مشترکہ کارروائی کی، جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والا ایک مطلوب دہشتگرد ہلاک ہوگیا۔
رینجرز کے مطابق ہلاک دہشتگرد کی شناخت قاری ضیاء الرحمٰن عرف قاری سیف اللہ کے نام سے ہوئی۔ کارروائی کے بعد اس کے قبضے سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد کیا گیا۔
ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق ہلاک دہشتگرد کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ سے تھا اور وہ پاکستان آرمی اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے کیمپوں پر متعدد حملوں سمیت دہشتگردی کی کئی کارروائیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔
رینجرز کے مطابق قاری ضیاء الرحمٰن نے 2006 میں قاری درویش عرف باندی وان کے گروہ میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں اس نے باجوڑ میں قائم ایک تربیتی کیمپ سے دہشتگردی کی تربیت حاصل کی۔
پریس ریلیز کے مطابق 2006 سے 2008 تک وہ فتنہ الخوارج کے کمانڈر مولوی فقیر محمد کے خفیہ ٹھکانوں پر پکٹ ڈیوٹی بھی انجام دیتا رہا۔
رینجرز کا کہنا ہے کہ 2007 میں وہ دیگر ساتھیوں کے ہمراہ باجوڑ میں پاکستان آرمی کے ایک کیمپ پر حملے سمیت کئی دیگر کارروائیوں میں ملوث رہا۔
2012 میں ایک فوجی آپریشن کے دوران وہ افغانستان فرار ہوگیا۔ وہاں اس نے ننگرہار کے بندھار درہ میں واقع ایک کیمپ میں مزید دہشتگردی کی تربیت حاصل کی۔ بعد ازاں وہ افغان سرحد سے ملحق پاکستانی چوکیوں پر ہونے والے متعدد حملوں میں بھی ملوث رہا۔
ترجمان کے مطابق ہلاک دہشتگرد حال ہی میں افغانستان سے کراچی منتقل ہوا تھا اور شہر میں حساس مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے اپنا نیٹ ورک منظم کر رہا تھا۔
سندھ رینجرز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشتگردی سے متعلق کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا عناصر کی موجودگی کی اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101، سی ٹی ڈی ہیلپ لائن 1022 (ایکسٹنشن 4) یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔ ترجمان کے مطابق اطلاع دینے والے کی شناخت صیغۂ راز میں رکھی جائے گی۔

