1965 کی جنگ کے ابتدائی مرحلے میں بھارتی فوج کے حملوں کے بعد پاک افواج نے بھرپور جوابی کارروائیاں کیں۔ پاکستانی فوج نے مختلف محاذوں پر بھارتی پیش قدمی روکنے کے لیے منظم مزاحمت کی۔
جنگ کے دوران پاک افواج کے متعدد کامیاب حملوں سے بھارتی فوج پر دباؤ بڑھا۔ مختلف سیکٹرز میں شدید لڑائی ہوئی اور دونوں جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں کی گئیں۔
کھیم کرن اور قصور سیکٹر میں شدید لڑائی
بھارتی فوج کے فورتھ ماؤنٹین ڈویژن، دوسری انڈیپنڈنٹ آرمڈ بریگیڈ گروپ اور ایک اضافی ٹینک رجمنٹ نے کھیم کرن کے علاقے سے قصور کی جانب پیش قدمی کی۔
پاکستانی افواج نے اس پیش قدمی کا مقابلہ کیا۔ شدید لڑائی کے بعد پاکستانی فوج نے کھیم کرن کے علاقے میں پیش قدمی کی اور بھارتی حملے کو روک دیا۔
قصور کے محاذ پر بھی پاکستانی فوج نے لاہور کی جانب بھارتی پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کی۔ بھارتی فوج کی کھیم کرن واپس لینے کی کوشش بھی کامیاب نہ ہوسکی۔
سیالکوٹ سیکٹر میں ٹینکوں کی بڑی لڑائی
لاہور سیکٹر میں بھارتی فوج ہریکے برکی روڈ تک پہنچی۔ اس کے بعد پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔
سیالکوٹ سیکٹر میں ٹینکوں کی شدید لڑائی ہوئی۔ پاکستانی فوج نے بھارتی بکتر بند یونٹس کو نشانہ بنایا۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق 36 بھارتی ٹینک تباہ کیے گئے۔
چھمب اور سندھ راجستھان سیکٹر میں پیش قدمی
چھمب سیکٹر میں پاکستانی فوج نے دیوا کے شمال میں موجود ایک بھارتی فوجی چوکی پر قبضہ کیا۔
سندھ راجستھان سیکٹر میں بھی پاکستانی فوج نے مزید پیش قدمی کی۔ پاکستانی فورسز نے گدرو کے علاقے میں بھارتی فوج کی مزید چوکیوں پر قبضہ کیا۔
پاک فضائیہ کی کارروائیاں
جنگ کے دوران پاک فضائیہ نے بھی مختلف محاذوں پر کارروائیاں کیں۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ہلواڑہ کے مقام پر بھارتی مگ طیاروں کی ایک فارمیشن کو نشانہ بنایا گیا۔
پاک فضائیہ نے مغربی بنگال کے باغ ڈوگرا ایئربیس پر بھی کارروائی کی۔ رپورٹ کے مطابق دو بھارتی بمبار طیارے تباہ کیے گئے۔
آپریشن دوارکا اور پاک بحریہ
آپریشن دوارکا کے بعد پاک بحریہ نے بحیرہ عرب میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ اس کارروائی نے 1965 کی جنگ کے بحری محاذ کو بھی نمایاں کیا۔
1965 کی جنگ میں بری، فضائی اور بحری افواج نے مختلف محاذوں پر کارروائیاں کیں۔ ان معرکوں کو پاکستان کی عسکری تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے۔

