وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں تقسیم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق ملک کو اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کی ضرورت ہے۔
مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ کسی کو بولنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ ہر شخص اپنی رائے دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کل سب آئینی ماہر بن گئے ہیں۔ ’ایڈمنسٹریٹو یونٹ‘ کی نئی اصطلاح بھی سامنے آگئی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ بزنس فورمز پر کئی گھنٹے بحث ہوتی ہے۔ مختلف چینلز پر بھی اس معاملے پر گفتگو ہوتی ہے۔ تاہم عوام کی رائے سب سے اہم ہے۔
صوبوں کی تقسیم پر اسمبلیوں کا کردار
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عوام اپنی رائے اسمبلی کے ذریعے دیتے ہیں۔ اسی لیے اسمبلیوں کے فیصلوں کو اہمیت دینی چاہیے۔
انہوں نے سوال کیا کہ صوبائی اسمبلی قومی اسمبلی کے قانون کو کیسے مسترد کر سکتی ہے۔
مراد علی شاہ کے مطابق سندھ کے عوام نے صوبے کی تقسیم مسترد کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو تہائی سے زیادہ لوگوں نے اس مؤقف کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دوسرے صوبے تقسیم چاہتے ہیں تو ان کی اسمبلی فیصلہ کرے گی۔
آئین پر عملدرآمد ضروری ہے
مراد علی شاہ نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل نظام کے تباہ ہونے کی بات کی گئی تھی۔ بعد میں وہی لوگ تالیاں بجاتے بھی نظر آئے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ مراعات یافتہ نظام ہی نظام کے خاتمے کی بات کر رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ حکومت آئین پر عمل کرنے کی پابند ہے۔ ان کے مطابق ملک میں دو نظام نہیں ہو سکتے۔
سندھ اور کراچی کے مسائل
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اور کراچی میں مسائل موجود ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے اور شہر کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کچھ کر رہی ہے یا نہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اس کا جواب عوام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ 20 برس سے صوبے میں حکومت بنا رہی ہے۔
ان کے مطابق پارٹی نے ہر بار پہلے سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔

