جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو ٹیلیفون پر مبینہ دھمکیاں دینے کے مقدمے میں عدالت نے ملزم کونین علی شاہ کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کی عدالت میں سچل پولیس نے گرفتار ملزم کونین گوہر علی شاہ کو پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت سے ملزم کا جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی۔
ملزم کے وکیل کے دلائل
ملزم کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں عائد دفعات ملزم پر لاگو نہیں ہوتیں۔ انہوں نے مقدمے کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ملزم کو ڈسچارج کرنے کی استدعا کی۔
وکیل نے کہا کہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے، لیکن مدعی مقدمہ پہلے عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ ان کے مطابق پولیس رات 10 بجے 10 سے 15 گاڑیوں میں ملزم کے گھر پہنچی اور اسے حراست میں لے لیا۔
وکیل نے دعویٰ کیا کہ ملزم نے مدعی پر تشدد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی کوئی اصل ویڈیو موجود نہیں اور سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر جعلی ویڈیو چلائی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعہ دن کا بتایا گیا، جبکہ سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو رات کی ہے۔ وکیل نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ ویڈیو کا فرانزک تجزیہ نہیں کرایا گیا۔
مدعی کے وکیل کا مؤقف
مدعی مقدمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے عبوری ضمانت کے بعد بھی مدعی کو دھمکیاں دیں۔
انہوں نے کہا کہ مقدمے میں ملزم کے دیگر ساتھیوں کو گرفتار کرنا باقی ہے۔ موبائل فون بھی برآمد کرنا ہے، جبکہ مرکزی مقدمے میں اسلحہ کی برآمدگی بھی مطلوب ہے۔
وکیل نے عدالت سے کہا کہ ملزم نے ضمانت کا غلط استعمال کیا ہے۔ دوسری جانب تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے مزید تفتیش ضروری ہے، اس لیے جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
عدالت کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ
دوران سماعت عدالت نے ملزم کی حراست سے متعلق بھی استفسار کیا۔ ملزم کے وکیل نے ویڈیو پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس نے اسے گھر سے حراست میں لیا۔
بعد ازاں کیس کے تفتیشی افسر اور مدعی مقدمہ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کونین علی شاہ کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
جان سے مارنے کی دھمکیوں کا مقدمہ
پولیس کے مطابق پروفیسر عارف خان ساقی کو جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا مقدمہ سچل تھانے میں درج کیا گیا تھا۔
مقدمہ الزام نمبر 26/1483 کے تحت دفعہ 506 اور 25-D ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت درج ہوا۔ ایف آئی آر میں کونین علی شاہ ولد علی گوہر شاہ کو نامزد کیا گیا۔
مدعی کے مطابق 10 ستمبر کو دوپہر 2 بجے ان کے موبائل فون پر واٹس ایپ کال موصول ہوئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کال پر کونین علی شاہ نے مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
مدعی کے مطابق انکار پر ملزم نے مبینہ طور پر جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ انہوں نے پولیس سے ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کی۔
پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد اسی رات کارروائی کرتے ہوئے نامزد ملزم کونین علی شاہ کو گرفتار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق ملزم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف پروفیسر عارف خان ساقی اور ان کے بھتیجے کو مبینہ تشدد کا نشانہ بنانے کا مقدمہ بھی سچل تھانے میں درج ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزمان نے اس مقدمے میں عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کر رکھی تھی۔ پولیس نے نئے مقدمے کی تفتیش انویسٹی گیشن پولیس کے سپرد کر دی ہے۔

