سابق انگلش کپتان ناصر حسین نے پاکستان کے بیٹر صائم ایوب کو ایجبسٹن ٹیسٹ میں کھلانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ صائم ایوب دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے۔
ناصر حسین نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ صائم ایوب کو ایجبسٹن ٹیسٹ میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق صائم ایوب ویسٹ انڈیز میں کیریبین پریمیئر لیگ (CPL) کھیل کر انگلینڈ پہنچے تھے۔
ٹیسٹ کرکٹ کے لیے تیاری پر سوال
ناصر حسین نے کہا کہ صائم ایوب نے کچھ عرصے سے فرسٹ کلاس کرکٹ بھی نہیں کھیلی۔ ایسے میں انہیں مختلف کنڈیشنز سے براہ راست انگلینڈ بلا کر ٹیسٹ میچ کھلانا درست فیصلہ نہیں تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ دوسرے فارمیٹ سے آنے والا کھلاڑی ڈیوکس بال، انگلینڈ کے بولنگ اٹیک اور رابنسن جیسے بولرز کا کیسے سامنا کرسکتا ہے۔
ناصر حسین کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ تمام فارمیٹس میں سب سے مشکل ہے۔ انگلینڈ میں ٹاپ آرڈر پر بیٹنگ کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
سہواگ کی مثال بھی دے دی
سابق انگلش کپتان نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ایک حصے سے کھلاڑی کو بلا کر دوسرے ملک کی کنڈیشنز میں کھیلنے کے لیے کہنا مناسب نہیں۔
انہوں نے سابق بھارتی اوپنر وریندر سہواگ کی مثال دی۔ ناصر حسین نے کہا کہ سہواگ کو بھی ماضی میں انگلینڈ بلایا گیا تھا، جہاں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ناصر حسین نے کہا کہ سہواگ صائم ایوب سے زیادہ تجربہ کار کھلاڑی تھے۔
صائم ایوب ایجبسٹن ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں کوئی رن نہ بنا سکے۔ ان کی ناکامی نے انگلینڈ میں ٹیسٹ کرکٹ کے لیے تیاری اور کھلاڑیوں کے انتخاب پر بحث چھیڑ دی ہے۔

