امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کا نومبر کے وسط مدتی انتخابات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق ایران جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔
جنگ کے فیصلے پر ٹرمپ کو پچھتاوا نہیں
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائی نے ایران کی بحری صلاحیت ختم کردی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے حامی ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر مایوس نہیں۔ ان کے مطابق حامیوں کو اس بات پر فخر ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں بعض لوگ واشنگٹن میں سیاسی تبدیلی کا انتظار کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کو امید ہے کہ ڈیموکریٹس اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت دیں گے۔
ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کا دعویٰ
ٹرمپ نے اپنے ایک سابقہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو امریکا کو ایرانی سپریم لیڈر سے مختلف انداز میں بات کرنا پڑتی۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں انہیں سپریم لیڈر کو فون کرکے پوچھنا پڑتا کہ وہ امریکا سے کیا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق اس کے بجائے امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران اب مشرق وسطیٰ کا غنڈہ نہیں رہا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر امریکا نے ایران کو تباہ نہ کیا ہوتا تو وہ دو ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔

