وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اسلام آباد کی اپنی اسمبلی یا صوبائی حکومت کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ایسا نظام قائم کرنا اچھا اقدام ہوگا۔ دنیا کے کئی دارالحکومتوں میں اس نوعیت کا نظام موجود ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پہلے مرحلے میں اسلام آباد میں یہ نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق اسلام آباد میں یہ نظام نافذ ہونے سے دیگر صوبوں میں بھی عمل آسان ہوگا۔
نئے انتظامی یونٹس کی تجویز
خواجہ آصف نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر سخت مؤقف درست نہیں۔
انہوں نے نئی دہلی کی مثال بھی دی۔ ان کے مطابق وہاں الگ حکومت موجود ہے۔
انہوں نے افغانستان میں صوبوں کی تعداد کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں 34 سے 35 صوبے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ یہ اقدام کسی صوبے کے خلاف نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اس سے وفاق مضبوط ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے بجائے نئے انتظامی یونٹس کی اصطلاح بہتر ہے۔
متفقہ فیصلے کو سب کو ماننا ہوگا
خواجہ آصف نے کہا کہ مسلم لیگ ن یا وزیراعظم کی جانب سے نئے صوبوں پر پیش رفت کا علم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق رکھتی ہے۔
ان کے مطابق کسی متفقہ فیصلے کے بعد سب کو اسے تسلیم کرنا ہوگا۔
وزیر دفاع نے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اسے عوام کا حق قرار دیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ عوام کے مسائل مقامی سطح پر حل ہونے چاہییں۔

