وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ دھرتی ماں صرف پاکستان ہے۔ صوبے صرف انتظامی یونٹس ہیں۔
حیدرآباد میں یومِ دفاع و شہدا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک پر قبضہ ختم کرنا ہے۔ انتظامی حدود میں تبدیلی کا آئین میں ذکر بھی ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آبادی بڑھے گی تو ڈویژن بھی بڑھیں گے۔ اضلاع اور صوبوں کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے۔
پاکستان ناقابلِ تقسیم ہے
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان ہی دھرتی ماں ہے۔ ان کے مطابق باقی تمام اکائیاں انتظامی یونٹس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم 18ویں ترمیم میں شریک ہوئی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پھر بھی ترمیم کرلیتیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی ڈھانچے کو آبادی کے مطابق بہتر بنانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے یونٹس بننے چاہییں۔
مصطفیٰ کمال کا حقوق لینے کا اعلان
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کچھ لوگ حقوق دینے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے لیے جان بھی دینی پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم بھی حقوق لے کر رہیں گے۔ اس کے لیے جان دینا پڑی تو بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت کو ملنے والے فنڈز پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق 18 سال میں وفاق نے سندھ کو 22 ہزار ارب روپے دیے۔
انہوں نے سندھ کی صورتحال پر تنقید بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمور سے کراچی تک مسائل موجود ہیں۔
فاروق ستار کا اصلاحات پر زور
فاروق ستار نے اصلاحات کے ایجنڈے کو پاکستان کے دفاع کا حصہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں مفادات کی سیاست ختم ہونی چاہیے۔ اختیارات اور وسائل عوام کی دہلیز تک پہنچانا ضروری ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ اصلاحات کے ذریعے عوام کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل ملکی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

