ایران نے امریکی دباؤ مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ کسی بھی نئی جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں۔ آبنائے ہرمز بھی اس کشیدگی کا اہم مرکز بن چکا ہے۔
ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ تہران امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنی فوجی مشکلات کی تلافی کے لیے نئے طریقے اختیار کر رہا ہے۔ ان میں اقتصادی دباؤ، میڈیا مہم اور نفسیاتی جنگ شامل ہیں۔
عبداللہی کے مطابق یہ حکمت عملی بھی ناکام ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جھکنے پر مجبور کرنا ایک غلط تصور ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کے بقول اس تبدیلی سے امریکی اثر و رسوخ بھی متاثر ہوگا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالباف نے بھی امریکہ کو خبردار کیا ہے۔
غالباف نے کہا کہ ایران اب کسی حملے کا معمولی جواب نہیں دے گا۔ ان کے مطابق آئندہ ردعمل زیادہ تیز اور سخت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے مفادات یا سلامتی کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔
امریکی جنگی جہازوں پر حملے کا ایرانی دعویٰ
ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے امریکی بحری جہازوں پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
IRGC کے مطابق اس کی ایرو اسپیس فورس نے امریکی بحریہ کے ایک طیارہ بردار جہاز اور ایک ڈسٹرائر کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
ایرانی گارڈز نے دعویٰ کیا کہ دونوں جہازوں کو نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق امریکی جہاز علاقے سے پیچھے ہٹ گئے۔
تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ امریکی حکام نے ایرانی دعووں کے کچھ حصوں کی تردید بھی کی ہے۔
IRGC نے ایک بغیر پائلٹ امریکی فوجی کشتی کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا۔ امریکی فوج نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی کارروائیوں کا دفاع کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی بحری جہاز ایرانی جہازوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکہ نے تین ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تین ایرانی آئل ٹینکروں کے خلاف کارروائی کی تصدیق کی ہے۔
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی ایرانی میزائل حملوں کے بعد کی گئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے دو امریکی بحری جنگی جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔
CENTCOM کے مطابق امریکی بحری جہازوں نے حملوں سے بچاؤ کیا۔ اس کے بعد امریکی فورسز نے تین ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔
امریکی فوج نے کہا کہ دو ٹینکروں کو مستقل طور پر ناکارہ بنایا گیا۔ ایک خالی آئل ٹینکر کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا۔
ان کارروائیوں میں ایم/ٹی ڈاؤنی، ایم/ٹی اسٹارک 1 اور ایم/ٹی کائلو شامل تھے۔ کائلو کو خلیج عمان میں نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ایران کے محدود آئل فلیٹ کے خلاف مزید کارروائی ہوسکتی ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری کشیدگی
آبنائے ہرمز اس تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔
یہ راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کشیدگی کے باعث اس راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔
امریکی فوج نے ایرانی بحری ناکہ بندی کے تحت متعدد تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق 92 تجارتی جہازوں کو متبادل راستوں کی طرف بھیجا گیا۔ تین جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ دو پر سوار ہو کر کارروائی کی گئی۔
ایران نے بھی آبنائے ہرمز کے قریب بحری آمدورفت پر نئی پابندیوں کا عندیہ دیا ہے۔ تہران ایک محدود یا ممنوعہ زون قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ایران کا اقتصادی دباؤ کے خلاف مؤقف
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے بھی امریکہ کو خبردار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی اور بحری دباؤ امریکہ کے لیے مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔
ان کے مطابق ایران کو ایک ڈالر کا نقصان پہنچانے کی کوشش میں امریکہ کو کئی گنا زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
محبی نے کہا کہ ایران پابندیوں کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گا۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ امریکی فوجی طاقت ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرسکتی ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات نے ایسے اندازوں کو غلط ثابت کردیا ہے۔
خارگ جزیرہ بھی اہم ہدف
ایران کی تیل کی برآمدات میں خارگ جزیرہ انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
امریکی دباؤ کے باعث ایرانی تیل کی برآمدات پہلے ہی متاثر ہوئی ہیں۔ جنگ سے قبل ایران اپنے زیادہ تر خام تیل کی برآمدات اسی خطے سے کرتا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں خارگ جزیرے کے خلاف فوجی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خارگ پر حملہ ہوا تو امریکہ کو سخت جواب ملے گا۔
تازہ صورتحال میں بھی خارگ جزیرہ ایرانی تیل کی برآمدات کے حوالے سے اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایران کی تیل کی تنصیبات اور برآمدی راستوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
امریکہ اور ایران کے درمیان بحری کشیدگی نے عالمی تیل کی منڈی کو بھی متاثر کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 92 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ کشیدگی طویل ہوئی تو مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔
ایران اور ترکی کے درمیان رابطہ
ترکی اور ایران نے بھی موجودہ صورتحال پر رابطہ کیا ہے۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر بات کی۔
دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ امریکہ کے ساتھ سفارتی رابطوں اور مذاکرات پر بھی بات ہوئی۔
لبنان میں اسرائیلی حملوں پر تشویش
دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی حملوں نے بھی خطے کی کشیدگی بڑھا دی ہے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق حملوں میں شہری ہلاک ہوئے۔ متعدد عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
صدر عون نے امریکہ اور عالمی برادری سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق شہریوں اور ریاستی اداروں کو تحفظ ملنا ضروری ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے۔ ایک غیر فعال اسپتال بھی حملے کی زد میں آیا۔
خطے میں جنگ پھیلنے کا خدشہ
امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ جھڑپوں نے خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری کارروائیاں جاری ہیں۔ ایران اور امریکہ ایک دوسرے کو مزید کارروائیوں سے خبردار کر رہے ہیں۔
اس صورتحال کا اثر عالمی تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
موجودہ حالات میں سفارتی کوششیں بھی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ تاہم، فریقین کے سخت بیانات سے فوری کشیدگی کم ہونے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

