کراچی: گل پلازہ آتشزدگی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام نے مقدمے کا چالان جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔
چالان میں گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر ورک نے چالان عدالت میں پیش کیا۔
سرکاری اداروں کو کلین چٹ
پولیس چالان میں کے ایم سی، فائر بریگیڈ اور سول ڈیفنس کو غفلت سے بری قرار دیا گیا ہے۔
چالان کے مطابق تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، یو ایس بی، این وی آر اور ڈی وی آر سمیت مختلف شواہد حاصل کیے گئے۔
فرانزک رپورٹ میں اشیا سے کسی دھماکہ خیز مواد کے شواہد نہیں ملے۔ رپورٹ میں کسی قابلِ اشتعال مائع کے آثار بھی سامنے نہیں آئے۔
بلوچستان میں 36 دہشت گرد ہلاک، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری
فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات
پولیس چالان میں گل پلازہ کی فائر سیفٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام نے مارکیٹ انتظامیہ کی مبینہ غفلت کی نشاندہی کی ہے۔
چالان میں دکانوں اور عمارت میں موجود حفاظتی انتظامات سے متعلق مختلف افراد کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
فرانزک رپورٹ کے مطابق بعض اشیا میں جلنے کے بعد باقی رہ جانے والے ذرات پائے گئے۔ پولیس نے دیگر شواہد بھی چالان کا حصہ بنائے ہیں۔
72 افراد جاں بحق
چالان میں گل پلازہ آتشزدگی کے نتیجے میں 72 افراد کے جاں بحق ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ مقدمے کے ساتھ 85 گواہوں کی فہرست بھی عدالت میں جمع کرائی گئی ہے۔
چالان کے مطابق ملزم امین کو مفرور ظاہر کیا گیا ہے۔ تنویر پاستا، رمضان، نعمت اللہ اور عمار اسماعیل ضمانت پر ہیں۔
11 سالہ حذیفہ کا مقدمہ الگ کر دیا گیا ہے۔ اس کا چالان جوینائل عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
مقدمے میں مختلف دفعات شامل
پولیس نے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 322، 337-H(ii)، 436، 427 اور 285 شامل کی ہیں۔
تفتیشی حکام نے مزید قانونی کارروائی اور عدالتی حکم کے لیے چالان عدالت میں جمع کرایا ہے۔
عدالت نے گل پلازہ آتشزدگی کیس کی مزید سماعت 9 ستمبر تک ملتوی کردی۔

