سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جمعہ کو اپوزیشن ارکان نے شدید نعرے بازی اور شور شرابہ کیا۔ ایم کیو ایم کے ارکان نے ’سندھو دیش نامنظور‘ کے نعرے لگائے۔
اجلاس اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی صدارت میں مقررہ وقت سے خاصی تاخیر سے شروع ہوا۔ کارروائی کے آغاز پر ہی ایم کیو ایم ارکان نے نعرے بازی شروع کردی۔
اسپیکر نے ارکان کو ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ تاہم اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی جاری رکھی۔ شور اتنا زیادہ تھا کہ ایوان میں کارروائی سننا مشکل ہوگیا۔
ہنگامے کے دوران وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے آڈٹ رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ مشیر انسانی آباد کاری نجمی عالم نے محکمہ کچی آبادی سے متعلق ارکان کے سوالات کے جواب بھی دیے۔
کچی آبادیوں سے متعلق حکومتی مؤقف
نجمی عالم نے بتایا کہ حکومت 2011 سے پہلے قائم کچی آبادیوں کو لیز دے گی۔ اس کے بعد قائم ہونے والی آبادیوں کو قبضہ تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ لیز کے لیے بورڈ آف ریونیو کا این او سی ضروری ہے۔ ان کے مطابق این او سی کے بغیر نئی آبادی قائم نہیں کی جاسکتی۔
نجمی عالم نے بتایا کہ کچی آبادیوں سے حاصل ہونے والی رقم کا 50 فیصد انہی آبادیوں پر خرچ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں مسلسل نقل مکانی کے باعث آبادی بڑھ رہی ہے۔ ’لائنز ایریا‘ منصوبے کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کردیا گیا ہے۔
ان کے مطابق 10 سے 12 دن میں بورڈ اجلاس ہوگا۔ اجلاس میں ری سیٹلمنٹ کے لیے پلاٹس سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
نجمی عالم نے کہا کہ پہلے سے جائیداد رکھنے والے شخص کو کچی آبادی کا پلاٹ نہیں ملے گا۔ حکومت نے سستی بستی کے قیام کے لیے محکمہ ریونیو سے زمین مانگی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت غریب شہریوں کو قسطوں پر گھر فراہم کرنے کے لیے منصوبہ بنارہی ہے۔ نالوں پر قائم آبادیوں کو ہٹانے کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ کی ہے۔
کراچی میں پانی کے بحران پر توجہ دلاؤ نوٹس
ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی نے کراچی میں پانی کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔ انہوں نے آدم کالونی اور سولجر بازار میں پانی کی شدید کمی کی نشاندہی کی۔
وزیر بلدیات کی عدم موجودگی میں پارلیمانی سیکریٹری قاسم سراج سومرو نے جواب دیا۔ ان کے مطابق کراچی کو 12 گھنٹے کی روٹیشن پر پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ علاقوں کی بلنگ صفر ہے کیونکہ شہری پانی کے بل ادا نہیں کرتے۔
اپوزیشن کا سندھو دیش مخالف قرارداد پر مؤقف
اجلاس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے میڈیا سے گفتگو کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے سندھو دیش تحریک کے خلاف قرارداد پیش نہیں کرنے دی۔
علی خورشیدی نے کہا کہ اپوزیشن نے نئے صوبوں سے متعلق مطالبات کو قرارداد کا حصہ بنانے کی درخواست کی تھی۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم تمام علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف ہے۔
ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طٰہٰ احمد نے بھی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان میں تمام علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف ہے۔
طٰہٰ احمد نے کہا کہ سندھ میں سندھو دیش کی تحریک کے خلاف قرارداد پیش ہونی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق حکومت نے قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہیں دی۔
بعد ازاں طٰہٰ احمد خان نے ایم کیو ایم کے ارکان کے ہمراہ سندھو دیش اور پاکستان میں تمام علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف قرارداد جمع کرادی۔
مسلسل نعرے بازی کے باعث ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی نے تحریک التوا پر بات نہیں کی۔ اسپیکر اویس قادر شاہ نے اجلاس پیر کو دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کردیا۔

