Site icon Tashakur News

عفو و کرم سیرتِ نبوی ﷺ میں معافی اور رحمت کی بے مثال مثالیں

Islamic representation of forgiveness and mercy in the Seerat of Prophet Muhammad ﷺ

The Prophet Muhammad ﷺ and the timeless message of forgiveness and mercy

صاحبزادہ پیر مختار احمد تونسوی نے حضور سیدِ عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے روشن پہلو عفو و کرم کو اجاگر کیا ہے۔ ان کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی صورت میں اجمل اور سیرت میں اکمل ہے۔

عفو و درگزر کا مفہوم

عفو کے معنی کسی قصوروار کو معاف کرنا اور سزا سے درگزر کرنا ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں ’’العفو‘‘ بھی شامل ہے۔ اس کے معنی معاف کرنے والے کے ہیں۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے معافی اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ سورۃ التغابن میں ارشاد ہے کہ اگر تم معاف کرو، درگزر کرو اور بخش دو تو اللہ بھی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

سیرتِ نبوی ﷺ بہترین نمونہ

سیرتِ نبوی ﷺ مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ قرآنِ کریم نے سورۃ الاحزاب میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اعلانِ نبوت کے بعد شدید مخالفت کا سامنا کیا۔ آپ ﷺ کو مختلف مواقع پر اذیت دی گئی۔ اس کے باوجود آپ ﷺ نے صبر اور برداشت کا دامن نہیں چھوڑا۔

آپ ﷺ نے اپنے مخالفین کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کیا۔ آپ ﷺ کی زندگی عفو، رحمت اور شفقت کی بے شمار مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔

یومِ عقبہ اور رسول اللہ ﷺ کی رحمت

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ سے اُحد کے دن سے زیادہ سخت دن کے بارے میں پوچھا۔

آپ ﷺ نے یومِ عقبہ کا واقعہ بیان فرمایا۔ طائف کے سفر میں آپ ﷺ نے ابن عبد یالیل کو توحید کی دعوت دی۔ اس نے آپ ﷺ کی دعوت قبول نہیں کی اور سخت رویہ اختیار کیا۔

واپسی پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی مدد کے لیے فرشتہ بھیجا۔ ملک الجبال نے عرض کیا کہ اگر آپ ﷺ حکم دیں تو وہ دونوں پہاڑوں کے درمیان اس قوم کو کچل دے۔

رسول اللہ ﷺ نے بدلہ لینے کے بجائے امید ظاہر کی کہ ان لوگوں کی آئندہ نسلوں میں ایسے افراد پیدا ہوں گے جو اللہ کی عبادت کریں گے۔

اذیت کے جواب میں رحمت

رسول اللہ ﷺ نے اپنے مخالفین کے ساتھ صبر اور برداشت کا مظاہرہ کیا۔ لوگوں نے آپ ﷺ کو اذیت دی، مگر آپ ﷺ نے ان کے لیے خیر کی دعا کی۔

آپ ﷺ نے بدسلوکی کا جواب حسنِ سلوک سے دیا۔ آپ ﷺ کی سیرت میں رحم اور درگزر کے ایسے واقعات ملتے ہیں جو انسانیت کے لیے مثال ہیں۔

فتحِ مکہ اور عام معافی

فتحِ مکہ رسول اللہ ﷺ کے عفو و کرم کی نمایاں مثال ہے۔ آپ ﷺ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے، مگر عام معافی کا اعلان فرمایا۔

اہلِ مکہ کو اپنے سابقہ مظالم یاد تھے۔ انہیں خدشہ تھا کہ ان سے بدلہ لیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے برعکس رحم اور معافی کا راستہ اختیار کیا۔

آپ ﷺ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اہلِ مکہ کو معافی دی۔ اس فیصلے نے دشمنی کے ماحول کو محبت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔

کن مخالفین کو معافی ملی؟

عام معافی پانے والوں میں وہ افراد بھی شامل تھے جنہوں نے ماضی میں رسول اللہ ﷺ کی شدید مخالفت کی تھی۔

عکرمہ بن ابوجہل، ہند بنت عتبہ، عبداللہ بن ابی سرح، عبداللہ بن زبعریٰ اور صفوان بن امیہ ان میں شامل تھے۔

عکرمہ بن ابوجہل کی اہلیہ اُم حکیم نے ان کے لیے امان طلب کی۔ رسول اللہ ﷺ نے عکرمہ کو امان دے دی۔

ہند بنت عتبہ بھی ان لوگوں میں شامل تھیں جنہوں نے اسلام سے پہلے شدید مخالفت کی تھی۔ بعد میں انہیں بھی عام معافی کا حصہ بنایا گیا۔

امت کے لیے سیرت کا پیغام

مضمون کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے قدرت رکھنے کے باوجود انتقام کے بجائے معافی کو ترجیح دی۔ یہی آپ ﷺ کی سیرت میں رحمت اور عفو کی نمایاں خصوصیت ہے۔

صاحبزادہ پیر مختار احمد تونسوی نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو خرافات سے بچتے ہوئے سنتِ رسول ﷺ کی پیروی اختیار کرنی چاہیے۔

ان کے مطابق رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کا عملی اظہار سنت کی پیروی اور آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل میں ہے۔

Exit mobile version