Site icon Tashakur News

آبنائے ہرمز ایران کا مزید بحری بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ، امریکا پر طنز

Iran Strait of Hormuz naval mines amid rising tensions between Iran and the United States

Iran claims additional naval mines were laid near the Strait of Hormuz

آبنائے ہرمز کے جنوب میں مزید بحری بارودی سرنگیں بچھانے کا ایرانی دعویٰ سامنے آیا ہے۔

ایرانی مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے یہ دعویٰ کیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کیا۔

ابراہیم ذوالفقاری کے مطابق رات کی کارروائی میں مزید بارودی سرنگیں بچھائی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ سرنگیں آبنائے ہرمز کے جنوب میں بحری راستوں پر بچھائی گئیں۔

ایرانی ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر بھی طنز کیا۔

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نام ’’آبنائے ٹرمپ‘‘ رکھنے کی تجویز دی تھی۔

ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ صرف فوٹوشاپ سے نام تبدیل کر سکتی ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکا فوٹوشاپ سے تیل بردار جہاز بھی گزار سکتا ہے۔

یہ بیان ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے مختلف دعوے کیے تھے۔

سینٹکام کے مطابق بحری آمد و رفت کے تمام راستے بارودی سرنگوں سے صاف ہیں۔

امریکی کمانڈ نے جہازوں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی اطلاعات کو گمراہ کن قرار دیا تھا۔

تیل بردار جہازوں سے متعلق ایرانی دعویٰ

ایران کے پاسداران انقلاب نے بھی دو تیل بردار جہازوں سے متعلق دعویٰ کیا تھا۔

ایرانی فورس کے مطابق دونوں جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ جہاز دھماکوں کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگئے۔

ایرانی دعوے کے مطابق امریکی فوج نے جہازوں کے عملے کو اتار دیا تھا۔

ایرانی فورس نے دعویٰ کیا کہ جہازوں کو امریکی عناصر کے حوالے کیا گیا تھا۔

پاسداران انقلاب نے بحری کمپنیوں کو قانونی راستے استعمال کرنے کی تنبیہ بھی کی۔

ایرانی بیان کے مطابق خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف اضافی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

تاہم ایرانی دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔

Exit mobile version