نئے صوبے بنانے کی تجویز پر پاکستان بھر کے شہریوں نے حمایت کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کے مطابق چھوٹے صوبے عوامی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
چھوٹے صوبوں کی حمایت
شہریوں کا کہنا ہے کہ نئے صوبے ایک اہم انتظامی اقدام ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس سے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور یکساں ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے۔
ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس دور دراز علاقوں تک حکومتی رسائی بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس سے عوام کو بنیادی سہولیات بھی زیادہ آسانی سے مل سکیں گی۔
عوامی مسائل کے حل کی امید
شہریوں نے چھوٹے صوبوں کو عوامی فلاح کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر ہوسکتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں سے انتظامی نظام زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عوامی مسائل مقامی سطح پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔
گوادر کے شہریوں کی رائے
گوادر کے بعض شہریوں نے بھی نئے انتظامی یونٹس کی حمایت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں کئی کاموں کے لیے کوئٹہ جانا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس سے سرکاری سہولیات شہریوں کی دہلیز تک پہنچ سکتی ہیں۔
امن و امان اور ترقی
شہریوں نے امید ظاہر کی کہ نئے صوبوں سے امن و امان بہتر ہوگا۔ ان کے مطابق تعلیم اور صحت کی سہولیات بھی عوام کے قریب آسکیں گی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے صوبوں سے ریاستی نظام چلانا آسان ہوسکتا ہے۔ اس سے بنیادی سہولیات کی بروقت فراہمی بھی ممکن ہوگی۔

