Tashakur News

سحر انصاری شخصیت اور فن پر کتاب کی تقریبِ پذیرائی، ادبی شخصیات کی خراجِ تحسین

Prof. Sehar Ansari at the book appreciation ceremony in Karachi

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں معروف ادیب، شاعر اور نقاد پروفیسر سحر انصاری کی شخصیت اور فن پر مبنی کتاب کی تقریبِ پذیرائی ہوئی۔ کتاب کا عنوان ’’سحر انصاری: شخصیت اور فن‘‘ ہے۔

تقریب میں ادبی شخصیات، اساتذہ، دانشوروں اور اہلِ قلم نے شرکت کی۔ کتاب کی تحقیق و تخلیق ضیاء الحسن اور مشتاق احمد خان نے کی ہے۔

تقریب کی صدارت ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کی۔ پروفیسر سحر انصاری تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ خالد معین نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

سحر انصاری کا ادبی مقام

ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کہا کہ یہ محفل دراصل ’’جشنِ سحر انصاری‘‘ ہے۔ ان کے مطابق سحر انصاری اردو زبان، تہذیب اور ادب کی نمایاں شخصیت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سحر انصاری کی فکر، شاعری اور تنقید ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان مضبوط ربط قائم کرتی ہے۔ ان کی علمی خدمات نئی نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔

ڈاکٹر ضیاء الحسن نے بھی سحر انصاری کی علمی اور ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سحر انصاری نے کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کی طویل عرصے تک علمی تربیت کی۔

سحر انصاری کی یادیں

پروفیسر سحر انصاری نے تقریب میں اپنے ادبی سفر اور بزرگ اہلِ قلم سے تعلقات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب ان کے لیے تاریخی اور یادگار لمحہ ہے۔

انہوں نے جگر مرادآبادی، جوش ملیح آبادی، تابش دہلوی، فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی سمیت کئی بڑے ادیبوں کا ذکر کیا۔

سحر انصاری نے بتایا کہ انہیں ہندوستان میں کیفی اعظمی، ساحر لدھیانوی، علی سردار جعفری اور عصمت چغتائی سے ملاقات کا موقع بھی ملا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے عہد، دوستوں اور بزرگوں کے علمی اثرات کا نتیجہ ہیں۔ ان شخصیات کی محبت اور یادیں ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہیں۔

اہلِ قلم کی خراجِ تحسین

فراست رضوی نے کہا کہ سحر انصاری اپنے وسیع مطالعے اور تنقیدی بصیرت کے باعث منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات قومی اور تہذیبی سرمایہ ہیں۔

ڈاکٹر رخسانہ صبا نے سحر انصاری کی کتابوں سے گہری وابستگی کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہجرت کے وقت سحر انصاری اپنے ساتھ کتابوں سے بھرا صندوق کراچی لائے تھے۔

پیرزادہ سلمان نے سحر انصاری کے وسیع مطالعے اور گفتگو کے انداز کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سحر انصاری کی گفتگو علمی اور ادبی موضوعات کو مزید بامعنی بنا دیتی ہے۔

تقریب کے دوران مقررین نے سحر انصاری کی ادبی خدمات پر گفتگو کی۔ شعروشاعری نے بھی تقریب کو یادگار بنا دیا۔

آخر میں ممبر گورننگ باڈی اور ادبی کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر نے ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی اور پروفیسر سحر انصاری کو گلدستے پیش کیے۔

Exit mobile version