سندھ کابینہ نے صوبے بھر میں کچے کی زمینوں کے جامع سروے اور نقشہ سازی کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سی ایم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں منصوبے کے لیے 70 کروڑ 50 لاکھ روپے بھی مختص کیے گئے۔
کابینہ کے مطابق سروے آف پاکستان کے ذریعے کچے کی زمینوں کا سروے کرایا جائے گا۔ منصوبہ حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سروے کا مقصد کچے کی زمینوں کا درست ڈیٹا بیس تیار کرنا ہے۔ اس سے زمینوں کے انتظام، منصوبہ بندی اور ریونیو مینجمنٹ میں بہتری آئے گی۔
سروے دو مراحل میں مکمل ہوگا
حکام کے مطابق سروے دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں کچے کی زمینوں کی حدود اور رقبے کا تعین ہوگا۔
اس مرحلے میں سیٹلائٹ تصاویر، جی آئی ایس میپنگ اور جیوڈیٹک کنٹرول استعمال کیے جائیں گے۔ تصاویر کی پروسیسنگ کے بعد زمین کے مجموعی رقبے کا حساب لگایا جائے گا۔
دوسرے مرحلے میں کیڈسٹرل میپنگ ہوگی۔ دیہہ، تعلقہ اور ضلع کی سطح پر بھی تفصیلی نقشہ سازی کی جائے گی۔
حکام زمین کے استعمال کی جیو ٹیگنگ اور حدود کی نشاندہی بھی کریں گے۔ اس کے علاوہ کچے کی زمینوں کی پارسل لیول میپنگ ہوگی۔ زمین کی ملکیت اور استعمال سے متعلق ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا۔
چار ڈویژنز کی زمینیں سروے میں شامل
سروے حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور شہید بینظیرآباد ڈویژنز میں ہوگا۔ ان چار ڈویژنز کے 613 دیہہ سروے کا حصہ ہوں گے۔
حکام کے مطابق سروے کے لیے کچے کی زمین کا مجموعی رقبہ تقریباً 16 لاکھ 10 ہزار ایکڑ ہے۔ منصوبہ 15.5 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
سروے کے اختتام پر حتمی نقشے اور جامع رپورٹس تیار کی جائیں گی۔
غیر قانونی قبضوں کی روک تھام میں مدد ملے گی
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ درست نقشہ سازی اور دستاویز بندی شفاف لینڈ ایڈمنسٹریشن کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچے کی زمینوں کی درست میپنگ سے سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے روکنے میں مدد ملے گی۔ اس عمل سے ماحولیاتی تحفظ کو بھی فروغ ملے گا۔
وزیراعلیٰ نے بورڈ آف ریونیو اور سروے آف پاکستان کو منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے سروے میں درستگی اور شفافیت کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔

