کراچی کے سی ویو پر ماہی گیروں نے اسٹنگ رے مچھلیاں پکڑیں، جنہیں مقامی طور پر آرا مچھلی بھی کہا جاتا ہے۔ ماہی گیروں نے یہ شکار بغیر لانچ کے جال کے ذریعے کیا۔
اسٹنگ رے سمندری ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان میں ماہی گیر انہیں ساحلی علاقوں اور کھلے سمندر میں جال کے ذریعے پکڑتے ہیں۔
روایتی طور پر اسٹنگ رے سے پولٹری انڈسٹری کے لیے مچھلی کا چارہ تیار کیا جاتا ہے۔ گزشتہ 10 برس سے ان مچھلیوں کے پَر منجمد حالت میں تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا بھی برآمد کیے جا رہے ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 10 ہزار میٹرک ٹن اسٹنگ رے پکڑی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے ساحلوں پر اسٹنگ رے کی تقریباً 38 اقسام پائی جاتی ہیں

