Site icon Tashakur News

DAP کھاد کی ممکنہ قیمت میں اضافے پر سندھ حکومت کا کسانوں کو ریلیف دینے کا فیصلہ

Sindh Agriculture Minister Sardar Muhammad Bakhsh Khan Mehr chairing a meeting on DAP fertilizer subsidy.

Sindh Agriculture Committee reviews DAP fertilizer subsidy proposals for farmers.

سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے زراعت نے 2026-27 کے ربیع سیزن میں ڈی اے پی کھاد کی ممکنہ قیمت میں اضافے کا جائزہ لیا ہے۔ کمیٹی کسانوں کے لیے مجوزہ سبسڈی پر بھی غور کر رہی ہے۔

اجلاس وزیر زراعت سردار محمد بخش خان مہر کی صدارت میں ہوا۔ صوبائی وزرا جام خان شورو، سید ذوالفقار علی شاہ اور مخدوم محبوب الزمان سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

کسانوں کے لیے ریلیف کی تجاویز

سردار محمد بخش خان مہر نے کہا کہ حکومت کسانوں کو ڈی اے پی کھاد کی ممکنہ مہنگائی سے ریلیف دینا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق کسانوں کو بروقت سہولت فراہم کرنا سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں آبادگاروں کو کسان کارڈ کے ذریعے بھی ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ زرعی شعبے میں کلیکٹو نظام کو بھی کامیاب بنانا ضروری ہے۔

وزیر زراعت نے بتایا کہ ذیلی کمیٹی اپنی حتمی سفارشات کل سندھ کابینہ کو پیش کرے گی۔ اس کے بعد سبسڈی اور دیگر تجاویز پر حتمی فیصلہ ہوگا۔

زرعی شعبے کے لیے کسان دوست پالیسی پر زور

صوبائی وزیر جام خان شورو نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کے مسائل کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق ڈی اے پی سمیت دیگر زرعی مداخل کی مناسب قیمت اور دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے۔

سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ کھاد کی قیمت میں اضافہ براہِ راست کسانوں کے اخراجات بڑھاتا ہے۔ حکومت کو اس صورتحال کے پیش نظر کسان دوست پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے آبادگار ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومت کو انہیں ہر ممکن سہولت اور ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔

مخدوم محبوب الزمان نے مؤثر اور شفاف سبسڈی پالیسی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی پیداوار بڑھانے اور غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے آبادگاروں کو سہولت دینا چاہتی ہے۔

معاون خصوصی راجویر سنگھ سوڈھو نے کہا کہ کسانوں کو ڈی اے پی کھاد کی ممکنہ مہنگائی سے ریلیف دینے کے لیے عملی اور قابلِ عمل تجاویز کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

Exit mobile version