کراچی میں پارٹی کے ضلعی جنرل سیکریٹری اور سندھ کونسل کے رکن شہزاد مجید نے 28 اگست کو فیضان راوت کو وضاحتی خط جاری کیا۔
خط کے مطابق ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ حالیہ دنوں میں گردش کر رہی ہے۔ اس میں بعض بیانات فیضان راوت کی آواز سے منسوب کیے گئے ہیں۔
شہزاد مجید نے کہا کہ ان بیانات سے پارٹی کے نظم و ضبط اور تنظیمی اصولوں سے متعلق سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق مبینہ گفتگو سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ساکھ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ مبینہ آڈیو میں پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا نام بھی لیا گیا ہے۔ پارٹی نے اس حوالے سے بھی فیضان راوت سے وضاحت طلب کی ہے۔
ایس بی سی اے سے متعلق مبینہ گفتگو
وضاحتی خط میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) سے متعلق مبینہ گفتگو کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
شہزاد مجید کے مطابق آڈیو میں ایسے الفاظ استعمال ہوئے جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ایس بی سی اے سے متعلق معاملات میں سیاسی امور اور مقامی پارٹی قیادت کو اعتماد میں رکھا جاتا ہے۔
خط میں فیضان راوت سے اس معاملے کی بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
تین روز میں جواب طلب
شہزاد مجید نے کہا کہ فیضان راوت کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاملہ تنظیمی نوعیت کا ہے۔
خط کے مطابق فیضان راوت کو تین روز کے اندر اپنی تحریری وضاحت پارٹی سیکریٹریٹ، پاکستان پیپلز پارٹی ضلع وسطی کراچی کے دفتر میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ مقررہ مدت میں جواب نہ دینے کی صورت میں معاملہ پارٹی کے قواعد و ضوابط کے تحت آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
وضاحت غیر تسلی بخش ہونے پر بھی مزید تنظیمی یا تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ خط میں پارٹی کی بنیادی رکنیت اور پارٹی سرگرمیوں سے متعلق کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
شہزاد مجید نے یہ خط 28 اگست 2026 کو پاکستان پیپلز پارٹی ضلع وسطی کراچی کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے جاری کیا ہے۔

