Site icon Tashakur News

بچوں کی اموات مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں صحت کے نظام پر تشویش ظاہر کردی

Mustafa Kamal speaking in the National Assembly about child and maternal mortality in Pakistan.

Mustafa Kamal addresses the National Assembly on child and maternal health.

وفاقی وزیر صحت نے قومی اسمبلی میں بچوں اور ماؤں کی اموات پر تشویش کا اظہار کیا اور بنیادی صحت کے نظام میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔

اسلام آباد: بچوں کی اموات پاکستان کے لیے ایک سنگین صحت کا مسئلہ ہیں۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں صورتحال مثالی نہیں۔ ملک میں ہر سال تقریباً 4 لاکھ بچے جان سے محروم ہوجاتے ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی شرح دنیا میں بہت زیادہ ہے۔ ان اموات میں کئی جانیں بروقت علاج سے بچائی جاسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ ان کے پیچھے لاکھوں خاندانوں کا دکھ موجود ہے۔

مصطفیٰ کمال نے بنیادی صحت کے نظام میں اصلاحات پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

ماؤں کی اموات بھی بڑا مسئلہ

وفاقی وزیر صحت نے دورانِ حمل ماؤں کی اموات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی خواتین حمل یا اس سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث زندگی کھو دیتی ہیں۔ صحت کی بہتر سہولتوں سے کئی اموات روکی جاسکتی ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے حالیہ واقعات میں بچوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جاں بحق بچوں کو واپس نہیں لایا جاسکتا۔

ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آئندہ کسی بچے کی جان کیسے بچائی جائے۔ صرف افسوس اور تعزیت سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے صحت کے نظام کی خامیوں کو دور کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کو مل کر مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

قائمہ کمیٹیوں میں شرکت کا دعویٰ

مصطفیٰ کمال نے پارلیمانی نگرانی کے حوالے سے بھی اپنا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 14 ماہ سے قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پارلیمانی ریکارڈ سے ان کی حاضری دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے جان بوجھ کر کسی اجلاس کو نظر انداز نہیں کیا۔

انہوں نے پارلیمان اور قائمہ کمیٹیوں کو مکمل معلومات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی معاملے کو چھپایا نہیں جائے گا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بچوں اور ماؤں کی اموات صرف ایک اسپتال کا مسئلہ نہیں۔ یہ پورے صحت کے نظام کی کارکردگی کا سوال ہے۔

انہوں نے حکومت، پارلیمان اور متعلقہ اداروں پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق مؤثر اصلاحات سے قابلِ روک تھام اموات کم کی جاسکتی ہیں۔

Exit mobile version