Site icon Tashakur News

نرسز کی کمی سندھ میں تربیت یافتہ نرسز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ

Sindh Health Minister Azra Fazal Pechuho speaking about nursing reforms in Sindh.

Sindh Health Minister Azra Fazal Pechuho briefs the media on nursing reforms.

وزیرِ صحت عذرا فضل پیچوہو کا کہنا ہے کہ ہر سال تقریباً 5 ہزار نرسز تعلیم مکمل کرتی ہیں، تعداد 46 ہزار تک بڑھانے کا ہدف ہے۔

کراچی: نرسز کی کمی سندھ کے شعبۂ صحت کا ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ حکومت اس کمی کو دور کرنے کے لیے نرسنگ کے شعبے کو وسعت دے رہی ہے۔

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے صحت کی مجموعی صورتِ حال پر پریس بریفنگ میں کہا کہ سندھ میں طویل عرصے سے نرسز کی کمی ہے۔ حکومت نرسز کی تعداد بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق کئی دوسرے ممالک بھی نرسز کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

نرسنگ تعلیم کا معیار بہتر بنانے پر توجہ

وزیرِ صحت نے بتایا کہ نرسنگ کالجز کے لیے مشترکہ داخلہ پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد نرسنگ کی تعلیم اور تربیت کا معیار بہتر بنانا ہے۔

ان کے مطابق اس وقت ہر سال تقریباً 5 ہزار نرسز تعلیم مکمل کرکے عملی میدان میں آتی ہیں۔ حکومت آنے والے برسوں میں پاس آؤٹ نرسز کی تعداد 46 ہزار تک پہنچانے کا ہدف رکھتی ہے۔

ڈاکٹر عذرا نے کہا کہ نرسز کا تعلق عموماً غریب گھرانوں سے ہوتا ہے۔ بہتر معاشی مواقع کی وجہ سے کئی نرسز بیرونِ ملک چلی جاتی ہیں۔

دو نئے نرسنگ مراکز کا منصوبہ

وزیرِ صحت کے مطابق پائلٹ منصوبے کے تحت دو نرسنگ مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ جناح اسپتال اور قومی ادارہ برائے امراضِ قلب میں ملازمین کی بھرتی کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کو مزید وسعت دی گئی ہے۔ قومی ادارہ برائے امراضِ قلب میں نیا بلاک بھی قائم کیا گیا ہے۔

ٹراما سینٹر میں ویسکولر سرجری کا آغاز ہو چکا ہے۔ حکومت صحت کے مختلف شعبوں میں طبی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات بھی کر رہی ہے۔

Exit mobile version