سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن نے میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں پولیس کی کارکردگی اور ممکنہ کوتاہیوں کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔
کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس ہوا۔ کمیشن کی سربراہی سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کر رہے ہیں۔
کارروائی کے آغاز پر میر رضا کے والد، والدہ اور بہن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ کمیشن نے اہلخانہ سے تعزیت کی اور میر رضا کے لیے دعائے مغفرت بھی کی۔
جسٹس عمر سیال نے اہلخانہ سے کہا کہ کمیشن کا مقصد حقائق سامنے لانا اور تفتیش میں ممکنہ خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کارروائی شفاف انداز میں ہوگی۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن کی کارروائی کھلی ہوگی اور کوئی بھی شخص اسے دیکھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق کمیشن کسی دباؤ کے بغیر کام کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن کی مدت کے دوران وہ کسی سے ملاقات نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ بھی ملاقات کے لیے آئیں تو وہ ان سے نہیں ملیں گے۔
کمیشن نے اہم ریکارڈ طلب کرلیا
جوڈیشل کمیشن نے سندھ حکومت کو تمام اصل دستاویزات، میڈیکل رپورٹ، گواہوں کے بیانات اور متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
کمیشن نے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے پولیس اہلکاروں کو بھی طلب کرلیا۔ نرسری کے دو ملازمین، ایمبولینس ڈرائیورز اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
جسٹس عمر سیال نے سندھ حکومت سے پولیس افسران اور متعلقہ ڈاکٹروں کی فہرست بھی طلب کی۔
کمیشن نے عوام سے کیس سے متعلق معلومات اور شواہد فراہم کرنے کی اپیل کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں اشتہار شائع کیا جائے گا۔
اہم معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے ایک لاکھ روپے انعام بھی مقرر کیا گیا ہے۔
اہلخانہ نے پولیس تفتیش پر تحفظات ظاہر کیے
میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو کیس کی تفتیش سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے پولیس کی سابقہ تفتیشی ٹیم پر سنگین کوتاہیوں کا الزام عائد کیا۔
جبران ناصر کے مطابق میر رضا 28 جولائی کو گھر سے روانہ ہوئے تھے۔ بعد میں ان کی لاش ملنے کے واقعے کی تفصیلات بھی کمیشن کے سامنے پیش کی گئیں۔
وکیل نے کہا کہ اہلخانہ کو سی سی ٹی وی فوٹیج کا مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے جیو فینسنگ اور دیگر شواہد اہلخانہ کے ساتھ شیئر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
جبران ناصر نے کہا کہ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری اور مقدمے کی تفتیش پولیس کی ذمہ داری ہے۔ کمیشن پولیس کی کارکردگی اور ممکنہ کوتاہیوں کا جائزہ لے گا۔
مظاہرین کے خلاف مقدمے پر اعتراض
جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو میں میر رضا کے قتل کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر مقدمہ درج کرنے کی مذمت کی۔
ان کے مطابق مظاہرین میر رضا کے اہلخانہ کی حمایت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قاتلوں کی گرفتاری تک احتجاج جاری رکھنے کا حق استعمال کیا جائے گا۔
جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے قاتلوں کی گرفتاری کے بجائے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی۔ انہوں نے حکومت سے متعلقہ پولیس افسران کے کردار کا بھی جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔
وکیل نے کہا کہ اہلخانہ کا بنیادی مطالبہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل ہے۔ ان کے مطابق مختلف اداروں کو تفتیش میں شامل کرنے سے کیس کے شواہد کا بہتر جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
کمیشن کی کارروائی یکم ستمبر تک ملتوی
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن کا مقصد صرف میر رضا کیس تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق کارروائی کا مقصد ایسے واقعات میں اداروں پر عوامی اعتماد بہتر بنانا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن اپنی کارروائی مکمل کرکے تجاویز پیش کرے گا۔ تاہم قاتلوں کی گرفتاری اور مقدمے کی قانونی تفتیش پولیس ہی کی ذمہ داری رہے گی۔
جوڈیشل کمیشن نے مزید سماعت یکم ستمبر کو صبح 11 بجے تک ملتوی کردی۔

