امریکی حکام کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی سعودی عرب کو اسرائیل تسلیم کرنے اور ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے کی شرط پر قائم ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سول جوہری معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ کانگریس کو بھیج دیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ اب بھی معاہدے کو ایک سیاسی شرط سے جوڑتے ہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ سعودی عرب کو ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونا ہوگا۔
سعودی عرب کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط بھی پوری کرنا ہوگی۔
اس سے قبل ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری تعاون پر بات کی تھی۔
انہوں نے واضح کیا تھا کہ معاہدے میں یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ٹرمپ کے مطابق پروگرام صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔
انہوں نے سعودی پروگرام کا موازنہ ایران اور متحدہ عرب امارات کے سول جوہری پروگراموں سے بھی کیا تھا۔
اب معاہدہ امریکی کانگریس کے سامنے پیش کردیا گیا ہے۔

