کراچی: میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کے خلاف اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل سے متعلق درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے تحریری حکم جاری کردیا۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ عدالت نے تینوں حکام کو 31 اگست کو ہونے والی آئندہ سماعت پر معاونت کے لیے طلب کرلیا۔
تحریری حکم نامے میں عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا عدالت براہ راست جے آئی ٹی تشکیل دینے کی ہدایت جاری کرسکتی ہے؟ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا وہ تفتیش اور رپورٹ جمع کرانے کے عمل میں تبدیلی یا اس کی نگرانی کرسکتی ہے۔
عدالت نے سندھ ٹریبیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت گزٹ نوٹیفکیشن کے بغیر مداخلت کے قانونی جواز پر بھی وضاحت طلب کی ہے۔
میر رضا کے اہل خانہ نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی گمشدگی اور ہلاکت کا مقدمہ تھانہ فیروز آباد میں درج ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق جائے وقوعہ بروقت محفوظ نہ ہونے سے تفتیش متاثر ہوئی، جبکہ گواہوں کے بیانات بھی تاخیر سے قلمبند کیے گئے۔
ایران دورہ: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اہم ایرانی رہنماؤں سے ملاقاتیں
درخواست میں کہا گیا کہ پولیس نے الیکٹرانک آلات کی مناسب جانچ نہیں کی۔ اہل خانہ کے مطابق تفتیشی ٹیم نے وقت سے پہلے خودکشی کا مؤقف اختیار کیا اور اسے آگے بڑھایا۔
درخواست گزاروں نے میڈیکو لیگل ریکارڈ میں تبدیلیوں کا بھی دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق پولیس سرجن نے ابتدائی پوسٹ مارٹم میں نقائص کی نشاندہی کی اور قبر کشائی کی سفارش کی۔
خصوصی میڈیکل بورڈ نے قبر کشائی کے بعد لاش کا معائنہ کیا۔ درخواست کے مطابق بورڈ کے نتائج ابتدائی خودکشی کے مؤقف سے مختلف تھے۔ حتمی پوسٹ مارٹم اور کیمیائی معائنے کی رپورٹ نے بھی خودکشی کے امکان کو مسترد کردیا۔
درخواست میں سابق تفتیشی ٹیم کے ارکان کے طرز عمل پر بھی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اہل خانہ نے شواہد کی ناقص دیکھ بھال اور بعض شواہد کے ضائع ہونے کا الزام لگایا ہے۔
درخواست گزاروں کے مطابق موجودہ تفتیشی ٹیم اب تک کسی ملزم کی نشاندہی نہیں کرسکی۔ تفتیشی ٹیم نے 24 اگست کو چالان جمع کرانے کے لیے مزید وقت بھی طلب کیا۔
میر رضا کے اہل خانہ نے آزادانہ اور جامع تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جے آئی ٹی میں ایسے افسران شامل کیے جائیں جن کا کیس سے پہلے کوئی تعلق نہ رہا ہو۔
سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ وہ جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دے سکتی ہے یا نہیں، اس معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔ عدالت تفتیش سے متعلق احکامات جاری کرنے کے اپنے اختیار کا بھی جائزہ لے گی۔

