کراچی — میر رضا کیس کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی پریس کانفرنس پر سوالات اٹھا دیے۔ انہوں نے کہا کہ میئر کو واضح کرنا چاہیے کہ انہوں نے کس قانونی اور سرکاری حیثیت سے کیس پر گفتگو کی۔
جبران ناصر نے ایکسپریس سے گفتگو میں کہا کہ مرتضیٰ وہاب خود بیرسٹر اور وکیل ہیں۔ انہیں عدالتی کمیشن کے قانونی دائرۂ اختیار سے آگاہ ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق میئر کراچی نے کہا تھا کہ 1969 کے قانون کے تحت عدالتی کمیشن قتل کیس کی تحقیقات کرسکتا ہے۔ جبران ناصر نے اس مؤقف پر سوال اٹھایا کہ کمیشن کو قتل کیس کی تفتیش کا اختیار کس قانون کے تحت حاصل ہے۔
وکیل نے کہا کہ عدالتی کمیشن کے ٹی او آرز پر عدالت میں بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق میر رضا کے اہل خانہ موجودہ ٹی او آرز کو تسلیم نہیں کرتے۔
جبران ناصر نے سابق پولیس تفتیش پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابق تفتیشی ٹیم نے کیس کے کئی شواہد ضائع کیے یا انہیں ضائع ہونے دیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمیشن سابق پولیس تفتیشی ٹیم کے کردار کا بھی جائزہ لے۔ ان کے مطابق دیگر تحقیقاتی، خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے معاونت کا اختیار بھی کمیشن کو دیا جانا چاہیے۔
جبران ناصر نے کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کی اہلیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وہی پولیس ٹیم کمیشن کے ساتھ تحقیقات میں تعاون کرے گی جس کی کارکردگی پر خاندان پہلے ہی تحفظات ظاہر کرچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پولیس کی تحقیقات پر اعتماد کرتی ہے تو یہ الگ بات ہے۔ لیکن اگر پولیس کی تفتیش پر سوالات موجود ہیں تو دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مدد کیوں نہیں لی جارہی؟
جبران ناصر نے میر رضا کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے مطابق پولیس کی تفتیش اب بھی خودکشی کے مفروضے کے گرد گھوم رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ سندھ نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کی میڈیکل رپورٹ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ایسے میں کیس کی تحقیقات کے لیے مختلف اداروں کو شامل کرنا ضروری ہے۔
جبران ناصر نے میئر کراچی کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مرتضیٰ وہاب کیس پر قانونی بحث کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ میر رضا کیس سے متعلق تمام قانونی اقدامات وہ مقتول کے اہل خانہ کی مشاورت سے کر رہے ہیں۔

