Site icon Tashakur News

نئے صوبے: قیام ضروری، مگر نظام کی اصلاح کے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے

کراچی: نئے صوبے عوامی مسائل کے حل اور انتظامی امور میں بہتری کے لیے ضروری ہیں، تاہم صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے انتظامی نظام میں بنیادی اصلاحات اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا بھی ضروری ہے۔

یہ بات تنظیم الاخوان پاکستان کے زیرِ اہتمام کراچی میں منعقدہ سیمینار کے مقررین نے کہی۔ سیمینار تنظیم الاخوان سندھ کے صدر کیپٹن ملک امین کی رہائش گاہ پر ہوا۔ انہوں نے اجلاس کی صدارت بھی کی۔

سیمینار میں سیاسی، سماجی، علمی اور صحافتی شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے نئے صوبوں کے قیام اور موجودہ نظام کی خامیوں پر تفصیلی گفتگو کی۔

شرکا نے کہا کہ نئے صوبے انتظامی امور بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی آسان ہوسکتی ہے۔

مقررین کے مطابق تعلیم، صحت، روزگار اور بلدیاتی سہولیات تک عوام کی رسائی بہتر بنانے کے لیے واضح حکمت عملی ضروری ہے۔ نئے صوبوں کا مقصد صرف سیاسی یا انتظامی تقسیم نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات اور انصاف فراہم کرنا اصل مقصد ہونا چاہیے۔ اس کے لیے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوگا۔

مقررین نے اہل، باصلاحیت اور دیانتدار قیادت کے انتخاب کو بھی ضروری قرار دیا۔ ان کے مطابق نظام میں تبدیلی کے ساتھ اسے چلانے کے لیے اچھی قیادت بھی درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نیا نظام بھی نااہل یا بدعنوان افراد چلائیں تو نئے صوبے عوامی مسائل حل نہیں کرسکیں گے۔

سیمینار کے شرکا نے ایک شفاف اور عوام دوست نظام کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ انہوں نے میرٹ، دیانتداری اور قابلیت کو حکومتی نظام میں بنیادی اہمیت دینے پر زور دیا۔

شرکا کے مطابق نئے صوبوں کے قیام پر قومی سطح پر سنجیدہ اور وسیع مشاورت شروع ہونی چاہیے۔

Exit mobile version