Site icon Tashakur News

پبلک سروس گاڑیاں: سندھ حکومت کا صوبے بھر میں سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ

کراچی: سندھ حکومت نے صوبے بھر میں پبلک سروس گاڑیوں کے خلاف جامع انفورسمنٹ مہم اور کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی و ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز، تمام ڈی آر ٹی ایز اور موٹر وہیکل انسپیکشن ونگ کو فوری طور پر سخت چیکنگ اور انفورسمنٹ ڈرائیو شروع کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

حکام کو ہر دو ہفتے بعد کارروائی کی تفصیلات اور نظام میں مزید بہتری کے لیے سفارشات پر مشتمل رپورٹ محکمہ ٹرانسپورٹ کو جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ متعدد پبلک سروس گاڑیاں اب بھی ڈیجیٹائزڈ روٹ پرمٹ اور درست فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر سڑکوں پر چل رہی ہیں۔ بعض گاڑیوں میں لازمی فائر ایکسٹنگوشر بھی موجود نہیں، جو مسافروں کی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بغیر ڈیجیٹائزڈ روٹ پرمٹ، درست فٹنس سرٹیفکیٹ اور لازمی فائر ایکسٹنگوشر کے چلنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ تمام پبلک سروس گاڑیوں کے ڈیجیٹائزڈ روٹ پرمٹس کی تصدیق بھی کی جائے گی، جبکہ دستی روٹ پرمٹس کو غیر مؤثر تصور کرتے ہوئے منسوخ کیا جائے گا۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کی جامع فہرست تیار کرکے ہر دو ہفتے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ کو رپورٹ پیش کی جائے گی۔ بغیر درست فٹنس سرٹیفکیٹ چلنے والی گاڑیوں کو فوری طور پر تحویل میں لینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر کے مطابق بار بار خلاف ورزی کرنے والے آپریٹرز کے نام بلیک لسٹنگ کے لیے تجویز کیے جائیں گے۔ تمام پبلک سروس گاڑیوں میں مقررہ حفاظتی معیار کے مطابق فعال فائر ایکسٹنگوشر کی موجودگی لازمی ہوگی۔

انہوں نے موٹر وہیکل انسپیکٹرز کو اچانک معائنے کرنے اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائی کی ہدایت کی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانے، روٹ پرمٹ کی معطلی اور ضرورت پڑنے پر لائسنس کی منسوخی سمیت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

شرجیل انعام میمن نے واضح کیا کہ کسی بھی پبلک سروس گاڑی کو لازمی حفاظتی تقاضے پورے کیے بغیر سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

Exit mobile version