کراچی: سندھ کے وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ جنریشن زی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ بڑوں اور نوجوانوں کے درمیان براہِ راست بات چیت ہو، ان کی بات سنی جائے اور ان کے سوالات کو اہمیت دی جائے۔
وہ ڈی ایچ اے صفا یونیورسٹی میں رضا عابدی کی کتاب “Understanding Career Counseling” کی تقریبِ رونمائی سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں کتاب کے مصنف رضا عابدی، ڈی ایچ اے صفا یونیورسٹی کے وائس چانسلر بریگیڈیئر (ر) پروفیسر ڈاکٹر احمد سعید منہاس، گرین وچ یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر سیما مغل، بحریہ یونیورسٹی کراچی کے ڈی جی وائس ایڈمرل اطہر مختار، محمد مبین جمانی، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔
سید سردار علی شاہ نے رضا عابدی کو نوجوانوں کی رہنمائی کے موضوع پر کتاب تحریر کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو درست سمت دکھانا آج کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کیریئر کونسلنگ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں، دلچسپیوں اور مستقبل میں دستیاب مواقع کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے آج آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں، تاہم انہیں درست رہنمائی کی ضرورت ہے۔ دنیا میں نئے پیشے اور شعبے تیزی سے سامنے آ رہے ہیں، اس لیے نوجوانوں کو روایتی شعبوں کے ساتھ ساتھ نئے اور ابھرتے ہوئے مواقع سے بھی آگاہ کرنا ہوگا۔
صوبائی وزیر نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ صرف کسی شعبے کے مقبول یا ٹرینڈ میں ہونے کی بنیاد پر کیریئر کا انتخاب نہ کریں بلکہ اپنی دلچسپی اور صلاحیت کو بھی مدنظر رکھیں۔ ان کے مطابق جس کام سے انسان کو دلچسپی اور جذباتی وابستگی ہو، کامیابی کا راستہ اکثر وہیں سے نکلتا ہے۔
والدین کو مخاطب کرتے ہوئے سید سردار علی شاہ نے کہا کہ بچوں سے صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں بلکہ یہ بھی جاننا چاہیے کہ انہیں کیا کرنا پسند ہے۔ ان کے مطابق ہر نوجوان کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے ان کے لیے مواقع اور راستے بھی مختلف ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ جن بچوں کے بارے میں اکثر شکایت کی جاتی ہے کہ وہ والدین کی بات نہیں سمجھتے، شاید بڑوں کو پہلے ان کی بات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جنریشن زی کو سمجھنے کے لیے ان سے بات کرنا، انہیں سننا اور ان کے سوالات کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
وزیرِ تعلیم نے کہا کہ نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ کامیابی کے راستے متعدد ہیں اور ان کی منزل صرف وہ نہیں جو معاشرہ ان کے لیے طے کرے۔ انہوں نے کہا کہ “Understanding Career Counseling” نوجوانوں، والدین اور تعلیمی اداروں کے لیے رہنمائی کا اہم ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔
کتاب کے مصنف رضا عابدی نے کہا کہ طلبہ کو اپنے مستقبل اور کیریئر کے حوالے سے مکمل معلومات ہونی چاہئیں۔ انہیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق شعبے کا انتخاب کرنا چاہیے اور اگر وہ بیرونِ ملک تعلیم یا روزگار کے لیے جانا چاہتے ہیں تو متعلقہ ملک اور اس کے تقاضوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر طالب علم کو اپنے کیریئر کے بارے میں درست رہنمائی ملنی چاہیے۔ اگر کوئی طالب علم ریاضی میں کمزور ہے تو اسے ریاضی سے متعلق شعبے کو پیشے کے طور پر منتخب کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اسی طرح ابلاغ اور گفتگو کی صلاحیت کمزور ہونے کی صورت میں مارکیٹنگ جیسے شعبے میں کامیابی حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
رضا عابدی نے کہا کہ اگر کوئی طالب علم انجینئرنگ کے لیے موزوں نہیں تو محض معاشرتی دباؤ یا مقبول رجحان کی بنیاد پر اس شعبے کا انتخاب اس کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق کیریئر کونسلنگ کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو اپنی صلاحیت اور دلچسپی سمجھنے کے بعد مستقبل کے بارے میں درست فیصلہ کرنے میں مدد دینا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ “Understanding Career Counseling” خاص طور پر ان طلبہ کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے جو اپنے مستقبل کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔ کتاب طلبہ کو کیریئر کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرتی ہے، جبکہ طلبہ کے لیے اس پر خصوصی رعایت بھی رکھی گئی ہے۔
تقریب سے گرین وچ یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر سیما مغل اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ بعد ازاں سید سردار علی شاہ نے دیگر شرکا کے ہمراہ کتاب “Understanding Career Counseling” کی رونمائی کی۔

