کراچی، 17 اگست 2026: سندھ گورنمنٹ لینڈز مینجمنٹ ایکٹ 2026 کے مؤثر نفاذ، سرکاری اراضی کے تحفظ اور شفاف انتظام سے متعلق اہم اجلاس سندھ اسمبلی میں صوبائی وزیرِ داخلہ، قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار کی زیرِ صدارت ہوا۔
سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو خالد حیدر شاہ نے اجلاس کے شرکا کو ایکٹ کی مختلف شقوں، قانونی پہلوؤں اور عملی نفاذ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں سرکاری زمین کے مؤثر انتظام، تحفظ، شفاف استعمال اور نئے قانونی فریم ورک کے تحت اراضی سے متعلق معاملات کو منظم بنانے پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں قانون، بلدیات، صنعت و تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق امور کے ساتھ مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری اور انتظامی معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ سرکاری اراضی قومی اور صوبائی اثاثہ ہے، اس کے تحفظ اور درست استعمال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ سرکاری زمین کے استعمال، الاٹمنٹ اور انتظام سے متعلق تمام امور میں قانون کی مکمل پاسداری اور شفافیت یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ نئے قانون کا مقصد سرکاری اراضی کا تحفظ کرنے کے ساتھ اسے مؤثر اور عوامی مفاد میں استعمال کرنا ہے۔ ان کے مطابق ایکٹ کے تحت سرکاری زمینوں کے انتظام کو زیادہ منظم اور شفاف بنایا جائے گا۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ لینڈ الاٹمنٹ سے متعلق عالمی قوانین اور طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب ایس او پیز تیار کیے جا سکیں۔ انہوں نے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے باہمی رابطہ اور مربوط حکمت عملی اختیار کریں۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ قانون کے نفاذ میں موجود ابہام اور قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے تمام متعلقہ امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔ سرکاری اراضی سے متعلق معاملات میں ادارہ جاتی ذمہ داری، شفافیت اور جوابدہی کو بنیادی اصول بنایا جائے۔
اجلاس میں ایکٹ 2026 کے تحت آئندہ کے لائحہ عمل اور مختلف محکموں کی ذمہ داریوں پر بھی غور کیا گیا۔ شرکا نے قانون کے عملی نفاذ کے لیے اپنی سفارشات اور تجاویز کو مزید مؤثر انداز میں مرتب کرنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں لینڈ مینجمنٹ ایکٹ سے متعلق تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے پانچ رکنی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی۔ کمیٹی میں معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری، سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور سیکریٹری قانون شامل ہیں۔
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سرکاری اراضی کے مؤثر، شفاف اور منظم انتظام کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے سرکاری زمینوں کے ریکارڈ، استعمال اور انتظامی نظام میں شفافیت اور جوابدہی یقینی بنانے پر زور دیا۔
جام اکرام اللہ دھاریجو نے ایکٹ 2026 کو صوبے میں سرکاری اراضی کے بہتر انتظام اور مؤثر استعمال کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری زمین سے متعلق معاملات میں ادارہ جاتی رابطہ کاری اور واضح پالیسی پر مؤثر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری نے کہا کہ سرکاری اراضی کے شفاف اور مؤثر انتظام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایکٹ کے قانونی تقاضوں اور مؤثر نفاذ کے لیے تمام ضروری پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے گا۔
اجلاس میں وزیرِ بلدیات، وزیرِ صنعت و تجارت، معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ، سیکریٹری قانون، سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

