ایم کیو ایم پاکستان نے ملک میں مزید انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کا مطالبہ کردیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ آبادی کے بڑھتے حجم کے باعث موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی مسلسل پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے تجاویز پیش کرتی رہی ہے۔
خالد مقبول صدیقی کے مطابق ایم کیو ایم نے مڈل کلاس نوجوانوں کو قانون ساز ایوانوں تک پہنچایا۔ ان کے بقول یہی عمل شاید پارٹی کا سب سے بڑا جرم سمجھا گیا۔
نئے صوبوں کے لیے قومی مکالمے کی تجویز
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں آبادی تیزی سے بڑھی ہے۔ 1947 میں ملک کی آبادی تقریباً ڈھائی سے تین کروڑ تھی۔
ان کے مطابق آج پاکستان کی آبادی 25 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ اس دوران ملک میں متعدد ڈویژن بنے، لیکن نئے صوبے نہیں بنائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی تجویز سے کئی سیاسی جماعتیں اتفاق کرتی ہیں۔ پارٹی تمام سیاسی جماعتوں سے اس معاملے پر بات کرے گی۔
خالد مقبول صدیقی نے ملک میں بڑے قومی ڈائیلاگ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اس عمل کا آغاز کرنے جارہی ہے۔
ان کے مطابق آبادی کے تناسب سے پورے پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی ضرورت ہے۔
آرٹیکل 140 اے پر عملدرآمد کا مطالبہ
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے اٹھارویں ترمیم کی حمایت اس امید پر کی تھی کہ آرٹیکل 140 اے کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اب پورے ملک میں آرٹیکل 140 اے پر عملدرآمد کی بات ہورہی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف ایم کیو ایم کا سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ پاکستان کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت میں شمولیت سے قبل ایم کیو ایم نے جمہوریت کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچانے کی شرط رکھی تھی۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آئین میں صوبوں کے قیام کا طریقہ موجود ہے۔ ایم کیو ایم آرٹیکل 140 اے پر عملدرآمد نہ ہونے کے معاملے پر دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔
مصطفیٰ کمال کا انتظامی یونٹس پر مؤقف
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ سندھ کے خلاف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی 1966 تک پاکستان کا وفاقی دارالحکومت رہا ہے۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق کراچی میں سندھ کی تقریباً 38 فیصد آبادی رہتی ہے۔ ان کے بقول شہر رہنے کے لحاظ سے دنیا کے بدترین شہروں میں شامل ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی عوام کو بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا ہے۔ کئی علاقوں میں خواتین دور دراز مقامات سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انتظامی یونٹس بننے سے سندھ کے عوام اپنے نمائندے منتخب کرسکیں گے۔ ان کے مطابق صوبوں کو بڑی رقوم ملنے کے باوجود شہری مسائل برقرار ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم میں ایم کیو ایم کی تجویز سے کئی جماعتوں نے اتفاق کیا۔ تاہم پیپلز پارٹی نے اس کی حمایت نہیں کی۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ستائیسویں ترمیم میں بھی کئی جماعتوں نے اتفاق کیا، لیکن پیپلز پارٹی نے مخالفت کی۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم انتظامی اصلاحات کی تحریک کا حصہ بنے گی۔ مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ تین سال قبل آرمی چیف نے بھی انتظامی یونٹس بنانے کی بات کی تھی۔
ان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی انتظامی یونٹس کی بات کررہے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی ان خیالات کی تائید کی ہے۔
فاروق ستار کا بھی مزید انتظامی یونٹس پر زور
ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے کہا کہ مزید انتظامی یونٹس کے بغیر پاکستان میں استحکام مشکل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ نظام برقرار رہا تو عوامی ردعمل بڑھ سکتا ہے۔
فاروق ستار کے مطابق کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر قومی معیشت میں بڑا حصہ ڈالتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی تقسیم سے وسائل اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے۔ ان کے مطابق لاڑکانہ، سکھر اور میرپورخاص کے انتظامی یونٹس وہاں کے مقامی لوگ چلائیں گے۔
فاروق ستار نے کہا کہ سندھ کے وسائل پر سندھ کے عوام کا حق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کرپشن اور خراب حکمرانی کی ذمہ داری ایم کیو ایم پر ڈالنے کی مخالفت کی۔

