Site icon Tashakur News

سی ٹی ڈی: سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں 76 فیصد کمی، 918 انٹیلی جنس آپریشنز

Murad Ali Shah reviews CTD operations and counter-terrorism measures at a meeting in Karachi

Sindh Chief Minister Murad Ali Shah chairs a high-level CTD security meeting in Karachi.

کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں سی ٹی ڈی سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں جاری تحقیقات، سی ٹی ڈی کی آپریشنل کارکردگی، انفراسٹرکچر اور مستقبل کی ضروریات پر بریفنگ دی گئی۔

دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی

وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے بتایا کہ 2025 میں سندھ میں دہشت گردی کے 37 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ رواں سال یہ تعداد کم ہوکر 9 رہ گئی ہے۔

ان کے مطابق سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 76 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔

آئی جی سندھ نے بتایا کہ 2026 میں رپورٹ ہونے والے 9 واقعات میں سے 7 کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں۔ سی ٹی ڈی نے رواں سال تقریباً 78 فیصد ڈٹیکشن ریٹ حاصل کیا۔

حکام کے مطابق سی ٹی ڈی نے 2026 میں 918 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔ ان کارروائیوں کے دوران 87 دہشت گرد گرفتار ہوئے، جبکہ مختلف مقابلوں میں 4 عسکریت پسند ہلاک کیے گئے۔

سی ٹی ڈی نے عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں میں 2 ہزار کلوگرام سے زائد دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا۔

دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں

اجلاس میں بتایا گیا کہ سی ٹی ڈی نے پولیس اہلکاروں اور اہم تنصیبات پر حملوں میں ملوث متعدد نیٹ ورکس توڑ دیے ہیں۔

کراچی میں فالو اَپ آپریشن کے دوران ایک مرکزی ملزم اور اس کے ساتھی کو گرفتار کیا گیا۔ کارروائی میں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

حکام کے مطابق گرفتار ملزمان پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے متعدد مقدمات میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

شمالی سندھ میں ریلوے ٹریکس پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوث نیٹ ورک بھی توڑ دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہم تنصیبات پر کئی منصوبہ بند حملے بھی ناکام بنائے گئے۔

کراچی ٹریننگ سینٹر حملے کی تحقیقات

آئی جی سندھ نے وزیراعلیٰ کو کراچی ٹریننگ سینٹر حملے کی تحقیقات میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ مقدمے میں 9 ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں۔ تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے متعدد سیشنز کیے اور کئی مبینہ سہولت کاروں کی نشاندہی کی۔ واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

اجلاس میں فرقہ وارانہ تشدد اور انتہا پسند نیٹ ورکس سے منسلک متعدد مشتبہ افراد کی گرفتاری سے بھی آگاہ کیا گیا۔

جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور

اجلاس میں سی ٹی ڈی فیوژن سینٹر کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق مرکز نے انٹیلی جنس معلومات اور ڈیجیٹل تحقیقات میں بہتری پیدا کی ہے۔

فیوژن سینٹر نے 32 ہزار سے زائد سیلولر سپورٹ اینالیسز اور 31 ہزار سے زائد کرائم ڈیٹا اینالیسز مکمل کیے۔

اس کے علاوہ ایک ہزار سے زائد ڈیجیٹل فرانزک ایگزامینیشن اور ایک ہزار 600 سے زائد ویژول اینہانسمنٹ کیسز پر کارروائی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ انتہا پسند سرگرمیوں سے منسلک سیکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک یا رپورٹ کیے گئے ہیں۔

وزیر داخلہ نے جدید انٹیلی جنس سافٹ ویئر، ڈیجیٹل فرانزک ٹولز اور کرائم اینالیٹکس پلیٹ فارمز کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنے کی تجویز دی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے فیوژن سینٹر کے لیے جی پی یو پر مبنی جدید انفراسٹرکچر فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔

سی ٹی ڈی کے انفراسٹرکچر کی توسیع

وزیر داخلہ نے بتایا کہ سندھ بھر میں سی ٹی ڈی کے انفراسٹرکچر کی ترقی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت سکھر میں الگ سی ٹی ڈی کمپلیکس کی تعمیر شروع کردی گئی ہے۔ کراچی اور حیدرآباد میں جدید سی ٹی ڈی کمپلیکس کے منصوبے بھی منظوری کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔

سی ٹی ڈی نے بکتر بند گاڑیوں، نگرانی کرنے والے ڈرونز، اینٹی ڈرون سسٹمز، الیکٹرک گاڑیوں اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے لیے موٹر سائیکلوں کی ضرورت سے آگاہ کیا۔

سیکیورٹی گیٹس اور سی سی ٹی وی نظام سمیت دیگر حفاظتی سہولیات بھی آپریشنل ضروریات میں شامل ہیں۔

’جدید ٹیکنالوجی کا استعمال تیز کیا جائے‘

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے دہشت گرد نیٹ ورکس کی نگرانی مؤثر بنانے اور انٹیلی جنس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ بہتر کرنے پر زور دیا۔

وزیراعلیٰ نے انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے اہم انفراسٹرکچر اور اسٹریٹجک تنصیبات کے تحفظ کو ترجیح دینے کا حکم دیا۔ پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس اور سندھ میں کام کرنے والے غیر ملکی شہریوں کے تحفظ پر بھی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی۔

مراد علی شاہ نے چیف سیکریٹری کو جدید نگرانی کے آلات کی خریداری کا عمل تیز کرنے کا حکم دیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت سی ٹی ڈی کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق حکومت سندھ میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کو مضبوط، انٹیلی جنس صلاحیتوں کو مؤثر اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

Exit mobile version